30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6172 -[38] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عليٍّ على عَاتِقه فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم حضرت حسن ابن علی کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے صاحبزادے تم بہت اچھی سواری پر سوار ہو تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ سوار بھی تو اچھا ہے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی اے دیکھنے والے تو نے یہ تو دیکھا کہ جناب حسن کی سواری سید الانبیاء صلی الله علیہ و سلم کا کندھا ہے یہ نہ دیکھا کہ سوار سید الشھداء ہے سید الاولیاء حضرت علی کا فرزند دلبند ہے اور سیدۃ النساء فاطمہ زہرا کا لخت جگر ہے،سید الانبیاء کا نور نظر ہے رضی الله عنہ آپ کا لقب ہے راکب دوش رسول۔
|
6173 -[39] وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ فَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَة عَليّ؟ فو الله مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ. قَالَ: لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ فَآثَرْتُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حبي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ آپ نے اسامہ کے لیے تین ہزار پانچ سو مقرر فرمائے اور عبدالله ابن عمر کے لیے صرف تین ہزارمقرر فرمائے ۱؎ تو عبدالله ابن عمر نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح کیوں دی۲؎ الله کی قسم وہ کسی موقعہ میں مجھ سے آگے نہ بڑھے۳؎ فرمایا اس لیے کہ زید رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارے تھے۴؎ اور اسامہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے۵؎ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیارے کو اپنے پیارے پر ترجیح دی ۶؎(ترمذی) |
۱؎ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مشہور صحابہ کے لیے بیت المال سے سالانہ وظیفے مقرر فرمائے تھے ان کے گزارے کے واسطے،اس سلسلہ میں اپنے محبوب ترین فرزند کا سالانہ وظیفہ تین ہزار درہم مقرر فرمائے اور حضرت اسامہ کے لیے ساڑھے تین ہزار درہم مقرر کیے یعنی پانچ سو درہم زیادہ۔
۲؎ چونکہ وظیفے کی زیادتی کمی درجہ کی زیادتی کمی کی علامت ہوتی ہے اس لیے جناب عبدالله نے سوال فرمایا،مال کی ہوس یا حضرت اسامہ پر حسد سے نہ کہا۔
۳؎ مشھد کے معنی ہیں حاضری کی جگہ یعنی مجلس۔اس سے مراد عام مجلس خیر ہے علمی ہو یا عملی،جہاد کی ہو یا حج کی۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد جہاد ہے یعنی ایسی کوئی مجلس خیر نہیں گزری جس میں اسامہ شریک ہوئے ہوں میں شریک نہ ہوا ہوں۔
۴؎ حضرت عمر رضی الله عنہ کا یہ فرمان عالی تواضع اور انکسار کی بنا پر ہے ورنہ حضرت عمر حضور صلی الله علیہ و سلم کے بڑے ہی محبوب صحابی ہیں یا یوں کہو کہ گھر میں رہنے سہنے کی محبوبیت حضرت زید کو زیادہ حاصل ہے ہر وقت گھر میں نظر آنے والے پر زیادہ کرم رہتا ہے غرضکہ اس سے کوئی خاص محبت مراد ہے۔
۵؎ یہاں بھی وہ ہی تحقیق ہے کہ اس مخصوص محبت میں جناب اسامہ حضرت ابن عمر سے بڑھے ہوئے تھے۔
۶؎ سبحان الله! یہ ہے حضرت عمر کا عشق رسول آپ نے حضرات حسنین کریمین کے لیے پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ مقرر فرمایا تھا،حضرات خلفاء ثلثہ اہلِ بیت اطہار کے لیے امان تھے،ان کے زمانہ میں حضرات حسنین بلکہ حضرت علی کسی غزوہ میں نہ بھیجے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع