30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھائیں۔(مرقات)احمد اور ابن عساکر نے روایت کی کہ حسن میرے ہیں اور حسین علی کے اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑا بیٹا دادا نانا کا ہوتا ہے چھوٹا بیٹا باپ کا،یہ تقسیم اظہار کرم کے لیے ہے دیکھو مرقات۔
۳؎ سبط وہ درخت جس کی جڑ ایک ہو اور شاخیں بہت یعنی جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اسباط کہلاتے تھے کہ ان سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل شریف بہت چلی،رب فرماتاہے:"وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیۡ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًا"ایسے ہی میرے حسین سے میری نسل چلے گی اور ان کی اولاد سے مشرق و مغرب بھرے گی،دیکھ لو آج سادات کرام مشرق و مغرب میں ہیں اور یہ بھی دیکھ لو کہ حسنی سید تھوڑے ہیں حسینی سید بہت زیادہ ہیں اس فرمان عالی کا ظہور ہے۔
|
6170 -[36] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْحَسَنُ أَشْبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَل من ذَلِك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت علی سے فرمایا کہ حسن سینے اور سر کے درمیان رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے بہت مشابہہ تھے ۱؎ اور حسین اس سے نیچے کے حصہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے بہت مشابہہ تھے ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ خیال رہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ازسر تا قدم بالکل ہم شکل مصطفی تھیں صلی الله علیہ وسلم۔ہم نے عرض کیا ہے ؎
رسول الله کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا
اور آپ کے صاحبزادگان میں یہ مشابہت تقسیم کردی گئی تھی۔یہاں اشبہ یا تو ماضی ہے باب افعال کا یا اسم تفضیل ہے سمع یسمع کا۔حضرت حسین کی پنڈلی قدم شریف اور ایڑی بالکل حضور کے مشابہہ تھی۔علی جدہ وعلیہ الصلوۃ والسلام!
۲؎ حضور صلی الله علیہ و سلم سے قدرتی مشابہت بھی الله کی نعمت ہے جو اپنے کسی عمل کو حضور کے مشابہہ کردے تو اس کی بخشش ہوجاتی ہے من تشبہ بقوم فھو منہم۔تو جسے خدا تعالٰی اپنے محبوب کے مشابہہ کرے اس کی محبوبیت کا کیا حال ہوگا اس لیے یہ حدیث فضائل اہلِ بیت کے سلسلے میں لائی گئی۔
|
6171 -[37] وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟ حُذَيْفَةُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكِ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں جاؤں آپ کے ساتھ مغرب پڑھوں ۱؎ اور آپ سے عرض کروں کہ میرے اور تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں ۲؎ تو میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ساتھ مغرب پڑھی آپ نے مغرب پڑھی حتی کہ عشاء پڑھی۳؎ پھر حضور واپس ہوئے میں آپ کے پیچھے گیا،حضور نے میری آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے کیا حذیفہ، میں نے کہا ہاں فرمایا تمہاری کیا حاجت ہے الله تمہیں اور تمہاری ماں کو بخشے۴؎ یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا ۵؎ اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرے اور مجھے بشارت دے کہ فاطمہ جنتی لوگوں کی بیویوں کی سردار ہیں ۶؎ اور حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۷؎ (ترمذی)اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۸؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع