دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

سال بعد ہوا۔حضور انور نے آنے والے واقعہ کی حضرت ام سلمہ کو اس طرح خبر دے دی جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں شاہ مصر نے گایوں اور بالیوں کو کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ واقعہ قحط سالی کئی سال بعد ہوا، خواب میں آئندہ یا گزشتہ واقعات موجودہ شکل میں دکھائے جاتے ہیں۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: مؤمن خصوصًا اہل بیت خصوصًا جناب حسین کی تکلیف سے حضور انور کو قبر شریف میں تکلیف ہوتی ہے حضور اس دنیا سے بے خبرنہیں،رب فرماتا ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔دوسرے یہ کہ حضور اپنی وفات کے بعد بھی عالم کی سیر فرماتے ہیں اپنی امت کے حالات کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔وہ جو کہا جاتا ہے کہ حضور میلاد شریف میں تشریف لاتے ہیں اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ مقبولوں کی رفتار نور نظر کی رفتار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور کہیں تشریف لے جاویں مدینہ آپ سے خالی نہیں ہوتا جیسے نور نظر آسمان کی سیر کرے مگر آنکھ میں بھی رہتا ہے، حضور نے ہاتھ بڑھا کر جنت کا خوشہ پکڑ لیا مگر حضور رہے مدینہ میں۔

6167 -[33]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَي بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟قَالَ:«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ» وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: «ادْعِي لِي ابْنَيَّ» فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اہل بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا حسن اورحسین ۱؎ اور حضور فاطمہ سے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎

۱؎ اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے کہ محبت کی بہت قسمیں ہیں: اولاد سے محبت اور قسم کی ہے،ازواج سے اور قسم کی، دوستوں سے اور قسم کی۔اولاد میں حضرات حسنین بہت پیارے ہیں،ازواج میں حضرت عائشہ صدیقہ محبوبہ محبوب رب العالمین ہیں، دوست و احباب میں حضرت ابوبکر صدیق بہت پیارےہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

۲؎ حضور انہیں کیوں نہ سونگھتے وہ دونوں تو حضور کے پھول تھے پھول سونگھے ہی جاتے ہیں،انہیں کلیجے سے لگانا لپٹانا انتہائی محبت و پیار کے لیے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو سونگھنا،ان سے پیارکرنا،انہیں لپٹانا چمٹانا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے۔

۳؎  ذخائر میں ہے کہ یہ حدیث دوسری روایت میں حسن بھی ہے صحیح بھی۔(مرقات)

6168 -[34]

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ [إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ] نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّز

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ہم کو خطبہ دے رہے تھے ۱؎ اچانک حسن و حسین آئے جن پر دو سرخ قمیضیں تھیں ۲؎ وہ چلتے تھے اور گرتے تھے۳؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم منبر سے اتر آئے ان دونوں کو اٹھالیا اور اپنے سامنے بٹھالیا۴؎ پھر فرمایا سچ فرمایا الله تعالٰی نے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۵؎ میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ چلتے گرتے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا حتی کہ میں نے اپنی بات بند کردی اور ان دونوں کو اٹھالیا ۶؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن