30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی مجھے یہ تو محسوس ہوتا تھا کہ حضور انور کی گودمیں کچھ ہے کہ آپ کی گود ابھری ہوئی تھی مگر یہ پتہ نہ چلتا تھا کہ کیا چیز، رات اندھیری تھی اور وہ چیز بھی کمبل شریف میں چھپی ہوئی تھی۔
۴؎ حضرت اسامہ بہت دیر تک حاضر رہے باتیں کرتے رہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم اسی طرح بیٹھے رہے بغیر جنبش کیے ہوئے اس لیے آپ نے یہ پوچھنے کی ہمت کی۔
۵؎ یہ عبارت بیان ہے ابنای کا یعنی یہ حکمًا میرے بیٹے ہیں اور حقیقتًا میری بیٹی کے بیٹے ہیں مجھے ان سے بیٹوں جیسی محبت ہے۔ خیال رہے کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کی اولاد حضور کی نسل ہے اس سے حضور کی نسل چلی گویا حسن و حسین حضور کی نسل بھی ہیں اور نسل کی اصل بھی ورنہ نسب باپ سے ہوتا ہے نہ کہ ماں سے،ہاں شرف ماں سے بھی ہوجاتا ہے۔لفظ آل دونوں پر بولا جاتا ہے بیٹے کی اولاد پربھی اور بیٹی کی اولاد پر بھی۔ حضرت حنہ اور مریم اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم نے عمران کی آل فرمایا حتی کہ ایک سورہ کا نام آل عمران ہوا۔
۳؎ اس دعا کا مقصود حضرت اسامہ کو سنانا اور بتانا ہے کہ اسامہ میرے حسن و حسین سے محبت کرو کہ ان کی محبت الله تعالٰی کی محبوبیت کا ذریعہ ہے۔خیال رہے کہ دلی محبت بجلی کی کرنٹ کی طرح ایک متعدی چیز ہے جس سے محبت ہوتی ہے اس کی اولاد گھر والے نوکروں چاکروں حتی کہ اس کے شہر سے محبت ہوجاتی ہے"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ"۔ شعر
خاک طیبہ از دو عالم خوشتر است اے خنک شہرے کہ درولے دلبر است
|
6166 -[32] وَعَنْ سَلْمَى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِي تبْكي فَقلت:مَا بيكيك؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت سلمیٰ سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس گئی وہ رو رہی تھیں میں نے کہا آپ کو کیا چیز رلاتی ہے آپ بولیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا یعنی خواب میں۲؎ آپ کے سر اور ڈاڑھی مبارک پر مٹی ہے تو میں نے عرض کیا یارسول الله آپ کا یہ حال کیسا ہے فرمایا میں ابھی قتل حسین کے موقعہ پر حاضر تھا ۳؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ بی بی سلمٰی جناب ابو رافع جو حضور کے آزادکردہ غلام ہیں ان کی زوجہ ہیں،حضرت ابراہیم ابن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی دائی ازواج مطہرات کی خدمت کیا کرتی تھیں،جناب فاطمہ زہرا کو اسماء بنت عمیس زوجہ ابوبکر صدیق نے غسل میت دیا ان کے ساتھ مدد کے لیے بی بی سلمیٰ موجودتھیں۔(اشعہ،مرقات)
۲؎ حضرت ام سلمہ نے یہ خواب دسویں محرم جمعہ کے دن دوپہری میں دیکھی تھی وہ وقت تھا حضرت حسین کی شہادت کا۔مگر حق یہ ہے کہ خواب واقعہ کربلا سے پہلے کا ہے جس میں حضور انور نے آئندہ آنے والے واقعہ کی ام سلمہ کو خبر دی ہے خاص شہادت کے دن کا واقعہ نہیں۔
۳؎ خیال رہے کہ ام سلمہ کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے،اولًا ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں، ۴ھ میں ابو سلمہ کی وفات ہوئی،اسی سال حضور کے نکاح میں آئیں،چوراسی سال عمر پائی ۵۹ انسٹھ میں وفات ہوئی۔(اکمال،اشعہ)اور واقعہ کربلا آپ کی وفات سے دو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع