30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6163 -[29] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شباب أهل الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۱؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی جو لوگ جوانی میں وفات پائیں اور ہوں جنتی حضرت حسنین کریمین ان کے سردار ہیں ورنہ جنت میں تو سبھی جوان ہوں گے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ حضرات حسنین کریمین حضور صلی الله علیہ وسلم یا دوسرے نبیوں کے بھی سردار ہوں۔شباب جمع ہے شاب کی بمعنی جوان،جوانی کی عمر اٹھارہ برس سے تیس سال تک ہے۔
|
6164 -[30] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَدْ سبَق فِي الْفَصْل الأول |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۱؎(ترمذی)یہ حدیث پہلی فصلی میں گزر چکی ۲؎ |
۱؎ اس فرمان عالی کی شرح گزر گئی کہ جیسے باغ والے کو سارے باغ میں پھول پیا را ہوتا ہےایسے ہی دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں میں مجھے حضرات حسنین کریمین پیارے ہیں۔اولاد پھول ہی کہلاتی ہے سارے نواسی نواسوں میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو یہ دونوں فرزند بہت پیارے تھے۔
۲؎ صاحب مشکوۃ نے صاحب مصابیح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ حدیث تو پہلی فصل میں لاچکے تھے پھر اب یہاں مکرر کیوں لائے مگر قارئین کو معلوم ہے کہ وہاں بخاری کی روایت تھی یہاں ترمذی کی روایت ہے،نیز الفاظ حدیث میں کسی قدر فرق ہے محدثین ان وجوہ سے ایک حدیث کئی بار لے آتے ہیں۔
|
6165 -[31] وَعَن أسامةَ بنِ زيدٍ قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْء وَلَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَهُ فَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى وَرِكَيْهِ.فَقَالَ:«هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فأحبهما وَأحب من يحبهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات کسی کام سے نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گیا ۲؎ تو نبی صلی الله علیہ و سلم اس طرح تشریف لائے کہ آپ کسی چیز کو گود میں لیے تھے مجھے خبر نہ تھی کہ وہ کیا ہے۳؎ تو جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا میں نے پوچھا یہ کیا ہے جو آپ گود میں لیے ہیں ۴؎ حضور نے اسے کھولا تو حسن و حسین آپ کی رانوں پر تھے فرمایا یہ میرے دونوں بیٹے میری بیٹی کے بیٹے ہیں۵؎ الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۶؎(ترمذی) |
۱؎ حضرت اسامہ ابن زید ابن حارثہ کے حالات و فضائل پیچھے گزر چکے۔
۲؎ طروق کے معنی ہیں طریق طے کرکے کسی کے پاس پہنچنا،اب اصطلاح میں رات کے جانے کو طروق کہتے ہیں۔ماخوذ ہے طروقۃ الفہل سے اس لیے تارے کو طارق کہتے ہیں کہ وہ رات میں گویا سفرکرتا ہے"وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع