30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس حدیث کی بنا پر روافض حضرت عائشہ صدیقہ اور امیرمعاویہ اور ان دونوں کے ساتھیوں کو کافر کہتے ہیں کہ انہوں نے جناب علی سے جنگ کی تو گویا حضور سے جنگ کی اور حضور سے جنگ کفر ہے۔اس کے تین جواب ہیں: ایک الزامی دو تحقیقی۔ جواب الزامی تو یہ ہے کہ پھر ان حضرات کی آپس میں صلح بھی ہوگئی جناب علی و عائشہ کی صلح تو ہو ہی گئی،امیر معاویہ سے جناب علی نے صلح کی کوشش کی،پھر امام حسن نے صلح کرلی لہذا ان پر انا سلم لمن سالمھم صادق آگیا۔جواب تحقیقی ایک یہ ہے کہ جنگ کا لفظ اظہار غضب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کفر مراد نہیں ہوتا جیسے قرآن کریم سود خوار کے لیے فرماتا ہے: "فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"اور حضور فرماتے ہیں کہ جو ولی الله سے دشمنی کرے اذنتہ بالحرب۔تیسرے یہ کہ دشمنی کی جنگ کو حرب کہتے ہیں،ان بزرگوں کی جنگیں اختلاف رائے کی بنا پر تھیں دشمنی کی نہ تھیں،جب برادران یوسف علیہ السلام یوسف علیہ السلام کو اتنا ستاکر برسوں رلا کر کافر نہ ہوئے اور حضرت سارہ جناب ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و دانہ جنگل میں ڈلوا کر کافر نہ ہوئیں تو وہ حضرات صحابہ کافر کیسے ہوں گے،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔
|
6155 -[21] وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ. فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے جمیع ابن عمیر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے پوچھا کون شخص نبی صلی الله علیہ و سلم کو بہت پیارا تھا۲؎ آپ نے فرمایا فاطمہ پھر کہا گیا کہ مردوں میں فرمایا ان کے خاوند۳؎ (ترمذی) |
۱؎ یہ تابعی ہے،کوفہ کے باشندے ہیں،کہا جاتا ہے کہ خفیہ شیعہ تھا۔والله اعلم! (اشعہ)
۲؎ ان پھوپھی صاحبہ کا نام معلوم نہ ہوسکا یہ سوال یا تو خود جمیع نے کہا یا ان کی پھوپھی نے۔سألت یا تو متکلم ہے یا واحد غائب۔(مرقات)
۳؎ یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ کی حق گوئی کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ حضور کو سب سے زیادہ پیاری میں تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرت فاطمہ زہرا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور کو زیادہ پیاری جناب عائشہ تھیں پھر ان کے والد۔معلوم ہوا کہ انکے دل بالکل پاک و صاف تھے۔افسوس! ان پر جو ان حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن کہتے ہیں۔(اشعہ)خیال رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبیت کی نوعیتیں مختلف ہیں۔اولاد میں سب سے زیادہ پیاری جناب فاطمہ ہیں،بھائیوں میں سب سے زیادہ پیارے علی مرتضیٰ ہیں،ازواج پاک میں بہت پیاری جناب عائشہ صدیقہ ہیں۔غرضکہ ایک محبت کے سلسلہ میں جناب فاطمہ بہت پیاری،دوسرے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ بہت پیاری رضی الله عنہما،مقابلہ ایک سلسلہ کے افراد میں ہوتا ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جس حدیث کا راوی رافضی ہو اور روایت فضائل اہل بیت کی ہو تو سمجھ لو کہ وہ حدیث موضوع ہے۔(مرقات)
|
6156 -[22] وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ: «مَا أَغْضَبَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُول الله مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يحبكم لله وَلِرَسُولِهِ» ثمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي «المصابيح» عَن الْمطلب |
روایت ہے حضرت عبدالمطلب ابن ربیعہ سے ۱؎ کہ جناب عباس رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں بہت غصہ کی حالت میں آئے ۲؎ میں حضور کے پاس تھا حضور نے فرمایا آپ کو کس چیز نے غصہ میں کیا عرض کیا یارسول الله ہم کو قریش سے کیا تعلق ہے کہ جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہنس مکھ ہوکر ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس کے سوا اور طریقہ سے ملتے ہیں۳؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ناراض ہوئے حتی کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۴؎ پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہ ہوگا حتی کہ الله رسول کے لیے تم لوگوں سے محبت کرے ۵؎ پھر فرمایا اے لوگو جس نے میرے چچا کو ستایا اس نے مجھے ستایا ۶؎ کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۷؎ (ترمذی)اور مصابیح میں مُطلب سے روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع