30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6151 -[17] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ زَيْدٍ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نزل الْقُرْآن [أُدعوهم لِآبَائِهِمْ] مُتَّفق عَلَيْهِ وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعليّ: «أَنْتَ مِنِّي» فِي «بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ زید ابن حارثہ یعنی رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے غلام ہم انہیں زید ابن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے ۱؎ حتی کہ قرآن مجید نازل ہوا کہ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے بلاؤ ۲؎ (مسلم،بخاری)حضرت براء کی حدیث کہ حضور نے علی سے فرمایا انت منی بلوغ صغیر اور پرورش کے باب میں ذکر کردی گئی۔ |
۱؎ اس کی وجہ ابھی ہم بیان کرچکے کہ حضور نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنایا تھا اور عرب میں دستور تھا کہ اپنے منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے،اسے میراث بھی ملتی تھی،اس کی بیوی کو اپنی بہو سمجھتے تھے اپنی طرف اس کی نسبت کرتے تھے،اس قاعدے سے لوگ حضرت زید کو زید ابن محمد کہتے تھے۔
۲؎ جب حضرت زید ابن حارثہ نے جناب زینب کو طلاق دی اور وہ حضورصلی الله علیہ و سلم کے نکاح میں آئیں تب لوگوں نے کہنا شروع کردیا حضور انور نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ان سب کی تردید میں یہ آیت اور بہت سی آیات نازل ہوئیں مثلًا"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا"کہا اور جیسے"مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ"یا جیسے"مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَکُمْ اَبْنَآءَکُمْ"وغیرہ۔اس مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ انسان کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہونی چاہیے مگر قرآن کریم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو ہر جگہ عیسیٰ ابن مریم ہی فرمایا یعنی ماں کی طرف نسبت کیا اگر آپ کا کوئی باپ ہوتا تو باپ ہی کی طرف نسبت کی جاتی۔
|
6152 -[18] عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ وعترتي أهل بيتِي ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو آپ کے حج میں عرفہ کے دن دیکھا جب کہ آپ اپنی اونٹنی قصواء پر خطبہ پڑھ رہے تھے ۱؎ میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ اے لوگو میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ جب تک تم ان کو تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے الله کی کتاب اور میری عترت یعنی اہل بیت ۲؎(ترمذی) |
۱؎ قصواء حضور کی اونٹنی کا نام تھا،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ چونکہ اس کا کان کٹا ہوا تھا اس لیے اسے قصواء کہتے تھے۔والله اعلم! (مرقات)
ہوتے صدقے کبھی ناقہ کے کبھی محمل کے سارباں کے کبھی ہاتھوں کی بلائیں لیتے
دشت طیبہ میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے دھجیاں جیب و گریبان کی اڑاتے جاتے
حضور انور نے حجۃ الوداع کا خطبہ اسی اونٹنی پر دیا تھا۔
۲؎ عترت کے بہت معنی ہیں: قوم،اقارب،نزدیکی لوگ،ایک دادا کی اولاد اور گھر والے۔اھل بیتی فرماکر عترت کی تفسیر فرمادی کہ یہاں عترت سے مراد اہل بیت ہیں،قرآن پکڑنے سے مراد ہے اس کے پرعمل کرنا،عترت کو پکڑنے سے مراد ہے ان کا احترام کرنا،ان کی روایات پر اعتماد کرنا،ان کے فرمانوں پر عمل کرنا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اہل بیت ہی کو پکڑو باقی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع