30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6149 -[15] وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحبُّهما»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أرحمُهما» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱؎ وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہے کہ حضور انہیں اور جناب حسن کو پکڑتے تھے عرض کرتے تھے الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر ۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مجھے پکڑتے اور مجھے اپنی ران پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی کو اپنی دوسری ران پر بٹھالیتے تھے پھر ان دونوں کو لپٹاتے تھے ۳؎ پھر فرماتے الٰہی ان دونوں پر رحم فرما کہ میں ان پر رحم کرتا ہوں ۴؎(بخاری) |
۱؎ آپ اسامہ ابن زید ابن حارثہ خزاعی ہیں،آپ کی والدہ کا نام برکت ہے،کنیت ام ایمن جو حضور صلی الله علیہ و سلم کے والد عبدالله کی آزاد کردہ لونڈی ہیں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی پرورش کرنے والیوں میں سے،اسامہ ابن زید حضور صلی الله علیہ و سلم کے محبوب ترین ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے وقت اسامہ صرف دس سال کے تھے ۵۴ چون میں وفات ہوئی۔
۲؎ یہ حضرت اسامہ کی انتہائی عظمت ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی دعا میں انہیں حضرت حسن کے ساتھ ملایا اس لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث اہل بیت کے بیان میں لائے تاکہ معلوم ہو کہ اسامہ ابن زید بھی اہل بیت اطہار سے ہیں یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم کے گھر میں رہنے سہنے آنے جانے والے۔اس محبت سے مراد ہے کوئی خصوصی محبت جو حضور صلی الله علیہ و سلم کی محبت پر مبنی ہے ورنہ الله تعالٰی کو ہر مسلمان مؤمن سے محبت ہے،محبت بالمؤمنین،بالصالحین،بالاولیاء،بالانبیاء،بالمصطفی اور بمحبوبین المصطفی ان سب محبتوں میں بڑا فرق ہے۔
۳؎ یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم ان دونوں صاحبوں کو اپنی الگ الگ رانوں پر بٹھال کر ان دونوں کو اپنے سینے سے لگالیتے تھے گویا تین سینے ایک جگہ ہوجاتے تھے سینہ محمد حسن مجتبیٰ اور سینہ اسامہ ابن زید۔خیال رہے کہ سارے قرآن مجید میں سواء زید ابن حارثہ کے کسی صحابی یا اہل بیت کا نام نہیں آیا"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا"اور سواء مریم کے کسی عورت کا نام نہ آیا سواء رمضان کے کسی مہینے کا نام نہ آیا۔
۴؎ یعنی میں ان دونوں پر خصوصی رحمت کرتا ہوں تو بھی ان پر خاص ہی رحمت کر ورنہ حضور کی عمومی رحمت سارے عالم پر ہے "وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ"۔(مرقات)
|
6150 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَأَيْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي آخِره: «أوصيكم بِهِ فَإِنَّهُ من صالحيكم» |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت اسامہ ابن زید کو امیر بنایا ۱؎ تو بعض لوگوں نے ان کی امارت میں اعتراض کیا۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کے امیر ہونے میں طعنہ کرتے ہو تو تم ان کے والد کے امیر ہونے میں بھی اس سے پہلے طعنہ کرتے تھے۳؎ الله کی قسم وہ امیری کے لائق تھے۴؎ اور وہ مجھے لوگوں سے زیادہ پیارے تھے اور یہ بھی ان کے بعد مجھے لوگوں میں پیارے ہیں۵؎ (مسلم،بخاری )اور مسلم کی دوسری روایت میں اسی کی مثل ہے اس کے آخر میں ہے کہ تم کو ان کے متعلق وصیت کرتا ہوں کہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہیں ۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع