30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5773 -[35] عَن ابْن عبَّاس قَالَ: إنَّ الله تَعَالَى فضل مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ بِمَ فَضَّله الله عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ [وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نجزي الظَّالِمين] وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تأخَّر] قَالُوا: وَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاء] الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: [وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا كَافَّة للنَّاس] فَأرْسلهُ إِلَى الْجِنّ وَالْإِنْس |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرمایا کہ الله تعالٰی نے حضور محمد صلی الله علیہ وسلم کو سارے نبیوں پر اور سارے آسمان والوں پر بزرگی دی ۱؎ لوگوں نے کہا کہ اے ابن عباس آسمان والوں پر کس طرح بزرگی دی فرمایا کہ الله تعالٰی نے آسمان والوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو کہے گا کہ میں الله کے سوا معبود ہوں ۲؎ تو یہ وہی ہوگا جسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۳؎ اور الله تعالٰی نے حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کے لیے فرمایا کہ ہم نے آپ کے لیے روشن فتح دی ۴؎ کہ آپ کے صدقہ سے آپ کی امت کے اگلے پچھلے گناہ الله بخشے ۵؎ لوگوں نے کہا کہ نبیوں پر کیسے بزرگی دی فرمایا کہ الله تعالٰی نے فرمایا ہے کہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ان کی قوم کی زبان میں۶؎ تاکہ وہ ان کے لیے بیان کریں تو الله جسے چاہے گمراہ کرے آخر آیت تک اور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے لوگوں کے لیے کافی ۷؎ تو حضور کو جن و انسان کی طرف بھیجا ۸؎ |
۱؎ یعنی فرشی عرشی ساری مخلوق سے حضور انور کو الله نے افضل کیا،حضور خیر الخلق کلھم ہیں۔
۲؎ یعنی جو فرشتہ دعویٰ خدائی کرے گا ہم اسے دوزخ میں ڈالیں گے۔یہ فرمان فرضی صورت پر ہے جیسے قرآن فرماتا ہے کہ اگر خدا کے بیٹا ہوتا تو اسے پہلے میں پوجتا۔فرشتے گناہ بھی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ دعویٰ خدائی کریں یہ خوب خیال رہے۔
۳؎ یعنی فرشتوں کے متعلق یہ فرمان عالی قہر و غضب پر مبنی ہے جس سے انہیں خو ف و ہراس ہو۔
۴؎ فتح سے مراد یا فتح مکہ ہے یا رحمت کے تمام دروازے حضور کے لیے کھولنا مراد ہے یا یہ مطلب ہے کہ رب نے آپ کے ذریعہ سب دروازے کھول دیئے۔اس کی نفیس تحقیق ہمارے حاشیۃ القرآن میں دیکھو۔
۵؎ یعنی حضور انور سےرب تعالٰی نے رحمت و کرم بندہ نوازی والا کلام فرمایا الله کی رحمت اس کےغضب پر غالب ہے۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم گناہ تو کیا گناہ کے ارادے سے بھی محفوظ ہیں لہذا ذنبك سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا بخشوانا حضور صلی الله علیہ وسلم کے ذمہ کرم پر ہے یعنی امت کے گناہ۔اس کی نفیس تحقیق ہماری تفسیر میں ملاحظہ کرو۔ ذنبك کی تفسیریں اور بہت کی گئی ہیں۔تقدم اور تأخر سے مراد امت کے اگلے پچھلے گناہ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع