دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

قتلت خیر الناس اماو ابا                                                         و خیرھم اذ ینسبون نسبا

آپ کے ساتھ آپ کے گھر والے تئیس آدمی شہید ہوئے،آپ کی عمر اٹھاون سال ہوئی،      ۶۷؁ میں عبید الله ابن زیاد کو ابراہیم ابن مالک ابن اشتر نخعی نے قتل کیا،اس کا سر مختار کے پاس،مختار نے عبدالله ابن زبیر کے پاس اور ابن زبیر نے امام زین العابدین کے پاس بھیجا۔(مرقات)

6147 -[13]

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ»وَفِي رِوَايَة: «علمه الْكتاب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنے سینہ سے لگایا پھر فرمایا الٰہی انہیں حکمت سکھا اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں قرآن سکھا ۱؎ (بخاری)

۱؎ حضور کی یہ دعا قبول ہوئی حضرت عبدالله ابن عباس بڑے فقیہ مجتہد صحابی ابن صحابی ہیں،الله نے آپ کو علم قرآن علم فقہ بہت وسیع عطا فرمایا ہے،آپ کا لقب حبر امت ہے۔

6148 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «مَنْ وَضَعَ هَذَا؟» فَأُخْبِرَ فَقَالَ:«اللَّهُمَّ فقهه فِي الدّين» .

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پاخانہ تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا ۱؎ تو جب آپ باہر آئے فرمایا یہ کس نے رکھا ہے حضور کو خبر دی گئی تو فرمایا الٰہی اسے دین کا فقیہ بنادے ۲؎ (مسلم،بخاری)

 ۱؎ حضور انور اس دن حضرت عبدالله ابن عباس کی خالہ جناب میمونہ ام المؤمنین کے گھر قیام فرماتھے تہجد کا وقت تھا حضور استنجاء خانہ میں تشریف لے گئے،حضرت ابن عباس جو اس رات وہاں ہی سوئے تھے تاکہ حضور کی رات کی زندگی شریف دیکھیں آپ اٹھے اور وضو کے لیے پانی استنجاء خانہ کے دروازے پر رکھ دیا یہ خدمت بارگاہ نبوت میں قبول ہوگئی۔

۲؎  اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ فقہ فی الدین یعنی دینی سمجھ مسائل دینیہ کا استنباط کرسکنا الله کی بڑی نعمت ہے۔حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت عبدالله ابن عباس سے خوش ہوکر انہیں یہ دعا دی،دین کا علم اور چیز ہے دین کا فقہ اور چیز ہے،رب فرماتا ہے:"وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا"اور فرمایا ہے"یُّؤۡتِی الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ"۔ان آیات میں حکمت سے مراد فقہ فی الدین ہے اسی تفقہ سے انسان کتاب و سنت کو سمجھتا ہے اسی سے الہام اور وسوسہ میں فرق کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی،آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دو بار دیکھا آخر عمر شریف میں نابینا ہوگئے،   ۶۸ھ؁ میں طائف میں وفات ہوئی،اکہتر سال عمر پائی،آپ بہت سے علوم کے جامع تھے رضی الله  عنہ۔(مرقات)

6149 -[15]

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحبُّهما»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أرحمُهما» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱؎ وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہے کہ حضور انہیں اور جناب حسن کو پکڑتے تھے عرض کرتے تھے الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر ۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مجھے پکڑتے اور مجھے اپنی ران پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی کو اپنی دوسری ران پر بٹھالیتے تھے پھر ان دونوں کو لپٹاتے تھے ۳؎ پھر فرماتے الٰہی ان دونوں پر رحم فرما کہ میں ان پر رحم کرتا ہوں ۴؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن