30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6142 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کے کندھے پر تھے آپ فرماتے تھے الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو اس سے محبت کر ۱؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی جس درجہ کی محبت ان سے میں کرتا ہوں تو بھی اسی درجہ کی محبت کر یعنی بہت زیادہ،ورنہ حضرت حسن تو پہلے ہی سے الله کے محبوب تھے۔پہلا احب الف کے پیش سے ہے مضارع متکلم دوسرا احبہ الف کے فتحہ سے صیغہ دعا۔ امام حسن پندرہ رمضان ۳ھ ہجری کو پیدا ہوئے، ۵۰ پچاس ہجری میں وفات پائی،بقیع میں دفن ہوئے ۴۷ سال عمر پائی،حضرت علی کی وفات کے بعد چالیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ سے بیعت کی ۴۱ اکتالیس پندرہ جمادی اولٰی کو آپ نے امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری فرمائی۔(مرقات)
|
6143 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «أَثَمَّ لُكَعُ؟ أَثَمَّ لُكَعُ؟» يَعْنِي حَسَنًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ دن کے ایک حصہ میں نکلا حتی کہ آپ جناب فاطمہ کے ڈیرے پر آئے تو فرمایا کہ کیا یہاں بچہ ہے کیا یہاں بچہ ہے ۱؎ یعنی جناب حسن تو نہ ٹھہرے کہ حسن دوڑتے ہوئے آگئے حتی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب کے گلے لگ گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کر ۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ لکع کے معنی ہیں کم عقل یا بے عقل۔بچہ کو لکع اس لیے کہتے ہیں کہ وہ بے عقل ہے اس کے اور بہت معنی ہیں۔
۲؎ حضور کی یہ دعا تاقیامت محبین حسنین کے متعلق قبول ہے بشرطیکہ محبت واقعی ہو محض دعویٰ کی نہ ہو ورنہ ہم نے بعض جاہل پیروں کو دیکھا کہ بھنگ گھوٹ رہے ہیں اور گاتے جاتے ہیں گھٹے بھنگ تو چڑھے رنگ یاعلی مدد پنجتن پاک کی جے لا حول ولا قوۃ۔ یہ محبت حسین نہیں عداوت حسنین ہے حضرات حسنین نے کبھی نماز چھوڑی نہیں انہوں نے کبھی پڑھی نہیں۔
|
6144 -[10] وَعَن أبي بكرَة قَالَ:رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو منبر پر دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کی ایک کروٹ پر تھے آپ کبھی لوگوں پر توجہ فرماتے اور کبھی ان پر اور فرماتے تھے ۲؎ کہ میرا یہ بیٹا سید ہے۳؎ شاید کہ الله تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے ۴؎(بخاری )۵؎ |
۱؎ آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے،ثقفی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع