30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یعنی میری اولاد میری ازواج جناب علی وغیرہم ان کی اطاعت ان سے محبت کرو۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بیت یعنی گھر دو ہیں: ایک جسم کا گھر،دوسرے ذکر کا گھر یہ دونوں آبادی دنیا کا ذریعہ ہیں۔حضور صلی الله علیہ و سلم کے جسم خانہ والے تو آپ کی اولاد ازواج ہیں اور ذکر خانہ والے تاقیامت علماء اولیاء صالحین ہیں ان کے دلوں میں حضور کا نور بلکہ خود حضور صلی الله علیہ و سلم جلوہ گر ہیں۔(حکیم علی ترمذی،اشعۃ اللمعات)
۹؎ یعنی میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں،ان کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دین کھو بیٹھو گے۔خیال رہے کہ حضرات صحابہ اور اہل بیت کی لڑائیاں جھگڑے عداوت و بغض کے نہ تھے بلکہ اختلاف رائے کے تھے جیسے یوسف علیہ السلام کےبھائیوں کا اختلاف رائے یوسف علیہ السلام کے متعلق یا جناب سارہ کا اختلاف رائے حضرت ہاجرہ سے لہذا وہ نہ کفر ہیں نہ الحاد ورنہ لازم آئے گا کہ حضرت علی و عائشہ دونوں پر الزام آجاوے کہ دونوں اہل بیت ہیں اور ان دونوں بزرگوں کی جنگ ہوئی جمل میں،اس پر مفصل گفتگو ہماری کتاب امیرمعاویہ میں دیکھو۔
۱۰؎ یہ فرمان عالی اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا"جیسے کنویں میں گیا ہوا ڈول رسی سے وابستہ رہے تو پانی لے آتا ہے وہاں کی کیچڑ میں نہیں پھنستا لیکن اگر رسی سے کھل جاوے تو وہاں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے،دنیا کنواں ہے جہاں نیک اعمال و ایمان کا پانی بھی ہے اور کفر و گناہوں کی دلدل بھی،ہم لوگ گویا ڈول ہیں اگر قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ رہے تو یہاں کے کفرو عصیان میں نہیں پھنسیں گے نیک اعمال کا پانی لے کر بخیریت اپنے گھر پہنچیں گے۔خیال رہے کہ قرآن رسی ہے حضور صلی الله علیہ و سلم اوپر کھینچنے والے مالک ہیں اور اگر حضور رسی ہیں تو رب تعالٰی اوپر کھینچنے والا۔امام ابوصیری کہتے ہیں ؎
دعا الی الله فالمستمسکون بہ مستمسکون بحبل غیر منفصمی
رسی کا ایک کنارہ ڈول میں ہوتا ہے دوسرا کنارہ اوپر والے کے ہاتھ میں اگر اوپر والا ہاتھ نہ کھینچے تو رسی ڈول کو نہیں نکال سکتی۔
۱۱؎ لہذا کوئی قرآن چھوڑ کر ہدایت پر نہیں آسکتا۔خیال رہے کہ بعض مؤمنین بغیر کتاب الله صرف نبی کے ذریعہ رب تک پہنچ گئے جیسے فرعونی جادوگر یا جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص صرف کتاب الله سے بغیر نبی رب تک نہیں پہنچا۔
|
6141 -[7] وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: السَّلَام عَلَيْك يَا ابْن ذِي الجناحين. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ وہ جب حضرت ابن جعفر کو سلام کرتے تو کہتے تھے تم پر سلام ہو اے دو پروں والے کے فرزند ۱؎(بخاری) |
۱؎ حضرت جعفر ا بن ابی طالب قدیم الاسلام مؤمن ہیں،اپنے بھائی علی سے دس سال بڑے تھے،غزوہ موتہ میں ۸ھ میں ستر زخم کھا کر شہید ہوئے،اکتالیس سال عمر پائی،ان کے متعلق حضور نے فرمایا کہ میں جعفر کو فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتا دیکھ رہا ہوں اس دن سے آپ کا لقب طیار یا ذوالجناحین پڑ گیا اس لیے آپ کے فرزند عبدالله ابن جعفر کو لوگ ابن طیار ابن ذی الجناحین کہتے تھے۔
|
6142 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کے کندھے پر تھے آپ فرماتے تھے الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو اس سے محبت کر ۱؎ (مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع