30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6140 -[6] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: " أمَّا بعدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ " فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» وَفِي رِوَايَة: «كتاب الله عز وَجل هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک دن ہم میں خطیب کھڑے ہوئے اس پانی پر جسے خم کہا جاتا ہے ۱؎ مکہ مدینہ کے بیچ تو الله کی حمدوثناء کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا کہ حمد کے بعد لوگو خبردار میں بشر ہوں۲؎ قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آجائے میں اس کا بلاوا قبول کرلوں۳؎ میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑتا ہوں۴؎جن میں سے پہلی تو الله کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے۵؎ تم الله کی کتاب لو اسے مضبوط پکڑو ۶؎ پھر کتاب الله پر ابھارا اس کی رغبت دی۷؎ پھر فرمایا اور میرے اہل بیت۸؎ میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں۹؎ اور ایک روایت میں ہے کہ الله کی کتاب الله کی رسی ہے۱۰؎ جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پرہوا ۱۱؎ (مسلم) |
۱؎ غدیر خم کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے کہ حرمین شریفین کے درمیان جحفہ منزل کے قریب ایک جگہ کا نام خم ہے وہاں ایک تالاب ہے اس تالاب کو غدیر خم کہتے تھے،وہاں کا یہ واقعہ ہے۔
۲؎ چونکہ میں بشر ہوں لہذا مجھے بھی موت یقینًا آنی ہے ؎
جو یہاں آیا ہے اس کو ہوگا جانا ایک دن سب کو ہے منھا خلقناکم کا صدمہ ایک دن
۳؎ رسول رب سے مراد یا حضرت عزرائیل علیہ السلام ہیں جو سب کے پاس موت کے وقت آتے ہیں،یا حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جو وفات شریف کے وقت ملک الموت کے ساتھ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے استقبال کے لیے بارگاہ الٰہی میں ساتھ لے جانے کے لیے۔
۴؎ ثقلین بنا ہے ثقل سے بمعنی بوجھ،جن و انس کو بھی ثقلین کہتے ہیں کہ زمین میں ان کا بڑا وزن ہے،پھر فرمان الٰہی احکام شرعیہ کو ثقل کہتے ہیں کہ ان پر عمل نفس پر بوجھ ہے"اِنَّا سَنُلْقِیۡ عَلَیۡکَ قَوْلًا ثَقِیۡلًا"چونکہ قرآن مجید پر عمل اہل بیت کی اطاعت نفس پر بھاری ہے لہذا انہیں ثقلین فرمایا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ثقلین بمعنی زینت کی چیز ہیں۔جن و انس کو ثقلین اس لیے فرمایا گیا ہے کہ ان سے زمین کی زینت ہے "سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَ الثَّقَلَانِ"محشر میں انہیں کا حساب و کتاب ہے،چونکہ ایمان کی زینت دین کی رونق قرآن مجید اور اہل بیت اطہار سے ہے اس لیے انہیں ثقلین فرمایا۔ (مرقات)یعنی دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو متاع ایمان میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔
۵؎ یعنی قرآن مجید میں عقائد و اعمال کی ہدایت ہے اور یہ دنیا میں دل کا نور ہے قیامت میں پلصراط کا نور۔
۶؎ استمساك کے معنی ہیں مضبوطی سے تھامنا کہ چھوٹ نہ جائے قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامو کہ زندگی اس کے سایہ میں گزرے موت اس کے سایہ میں آئے کیونکہ ؎
گر تومی خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جز بقرآن زیستن
خیال رہے کہ کتاب الله میں سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی داخل ہے کہ وہ کتاب الله کی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے،سنت کے بغیر کتاب الله پر عمل ناممکن ہے لہذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے حدیث کی ضرورت نہیں بلکہ فقہ بھی کتاب الله کی ہی شرح یا حاشیہ ہے۔
۷؎ یعنی قرآن مجید پر عمل نہ کرنے سے ڈرایا عمل کرنے پر رغبت دی ثواب کا وعدہ فرمایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع