30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ حضور انور نے ام سلمہ کو بھی کمبل میں لے لیا پھر یہ دعا فرمائی۔(مرقات)خیال رہے کہ لفظ پنجتن پاک اس حدیث سے لیا گیا ہے اور یہ واقعہ بہت بار ہوا کبھی ام سلمہ کو کمبل شریف میں داخل نہیں کیا اور کبھی داخل فرمالیا ہے۔
|
6137 -[3] وَعَن الْبَراء قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجنَّة» رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ جب جناب ابراہیم کی وفات ہوئی ۱؎ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جنت میں اس کے لیے ایک دائی ہے ۲؎ (بخاری) |
۱؎ جناب ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن شریف سے پیدا ہوئے باقی ساری اولاد حضرت خدیجہ سے یعنی طیب،طاہر،قاسم اور رقیہ، زینب،کلثوم،فاطمہ رضی اللہ عنہم۔ابراہیم مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے،ذی الجوشہ میں سولہ مہینہ عمر پا کر وفات پاگئے،جنت البقیع میں عثمان ابن مظعون کے برابر دفن ہوئے،فقیر نے زیارت کی ہے،عثمان ابن مظعون حضور کے رضاعی بھائی تھے۔
۲؎ یعنی جنت کی کوئی خاص مخلوق ان کی خدمت کرتی ہے اور جنت کی خاص نعمتوں سے ان کی پرورش کی جاتی ہے۔خیال رہے کہ مرضعۃ ت سے وہ ہے جو دودھ پلائے اور مرضع وہ جو یہ کام کرسکے اگرچہ نہ کرے جیسے حائض وہ عورت جسے حیض آسکے یعنی بالغہ اور وہ جسے حیض آرہا ہو۔یہ فرق دیکھو لمعات شریف اسی جگہ اسی لیے قرآن کریم میں ہے" تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ"وہاں مرضع نہیں فرمایا۔(مرقات)
|
6138 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: كُنَّا - أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ. فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ثُمَّ أَجْلَسَهَا ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لي عَلَيْك مِنَ الْحَقِّ لِمَا أَخْبَرْتِنِي. قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّ بِي فِي الْأَمْرِ الأوَّل فإِنه أَخْبرنِي: «إِنَّ جِبْرِيل كَانَ يُعَارضهُ بِالْقُرْآنِ كل سنة مرّة وَإنَّهُ قد عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نعم السّلف أَنا لَك» فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِيَ الثَّانِيَةَ قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ أَلَا تَرْضِينَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟»وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أتبعه فَضَحكت. |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں آپ کے پاس تھیں جناب فاطمہ آئیں ۱؎ آپ کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی چال سے بالکل مختلف نہ تھی ۲؎ تو جب انہیں حضور نے دیکھا تو فرمایا خوش آمدید اے میری بچی پھر انہیں بٹھالیا پھر ان سے کچھ سرگوشی کی ۳؎ آپ بہت سخت روئیں تو جب ان کا رنج ملاحظہ فرمایا تو ان سے دوبارہ سرگوشی فرمائی تو وہ ہنس پڑی۴؎ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے تو میں نے ان سے سرگوشی کے متعلق پوچھا۵؎ آپ بولیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا راز فاش نہیں کرسکتی پھر جب حضور کی وفات ہوگئی تو میں نے کہا کہ میں تم کو اس کی وجہ سے جو میرا تم پر حق ہے قسم دیتی ہوں کہ تم مجھے بتادو ۶؎ آپ بولیں لیکن اب تو ہاں ضرور۷؎ جس وقت حضور نے پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی تو آپ نے مجھے خبر دی کہ حضرت جبریل ہر سال مجھ پر قرآن مجید ایک بار پیش کیا کرتے تھے اور انہوں نے اس سال مجھ پر دو بار پیش کیا۸؎ میں نہیں خیال کرتا مگر یہ کہ میری وفات قریب ہے تم اللہ سے ڈرتی رہنا اورصبر کرنا ۹؎ میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں ۱۰؎ تو میں رونے لگی تو جب حضور نے میری گھبراہٹ دیکھی تو مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی فرمایا اے فاطمہ کیا تم اس پر اضی نہیں کہ تم جنتی لوگوں کی بیویوں یا مؤمنوں کی بیویوں کی سردار ہو ۱۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھ سے حضور نے سرگوشی کی کہ اس بیماری میں حضور کی وفات ہوگی تو میں روئی پھر مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی مجھے خبر دی کہ میں ان کے گھر والوں میں پہلی ہوں گی جو ان کے پیچھے پہنچوں گی۱۲؎ تو میں ہنس پڑی۔ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع