دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

باب مناقب اھل بیت النّبی صلی اللہ علیہ و سلم و رضی اللہ عنھم

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   اہل بیت کے معنی ہیں گھر والے۔اہل بیت رسول چندمعنی میں آتا ہے: (۱)جن پر زکوۃ لینا حرام ہے یعنی بنی ہاشم عباس،علی، جعفر،عقیل،حارث کی اولاد(۲)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں پیدا ہونے والے یعنی اولاد(۳)حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں رہنے والے جیسے ازواج پاک(۴)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں آنے جانے والے جیسے حضرت زید ابن حارثہ اور جیسے اسامہ ابن زید،یہاں ازواج پاک کے سواء باقی حضرات مراد ہیں یعنی اولاد اور خدام خاص کیونکہ ازواج پاک کے لیے مؤلف نے علیحدہ باب باندھا ہے۔خیال رہے کہ بیویوں کا اہل بیت ہونا قرآنی آیات سے ثابت ہے،رب نے حضرت سارہ کو جناب ابراہیم کی اہل بیت فرمایا"رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمْ اَہۡلَ الْبَیۡتِ"حضرت صفورہ کو جناب موسیٰ علیہ السلام کا اہل فرمایا "اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امْکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسْتُ نَارًا"حضرت عائشہ صدیقہ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اہل بیت فرمایا"وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیۡنَ مَقٰعِدَ لِلْقِتَالِ"اور اولاد کا اہل بیت ہونا حدیث سے ثابت ہے،حضور نے جناب فاطمہ حسنین کریمین اور جناب علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اللھم ھؤلاء اھل بیتی خدایا یہ لوگ بھی میرے اہل بیت ہیں لہذا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج،اولاد سب ہی اہل بیت ہے رضی اللہ عنہم۔خلاصہ یہ ہے کہ بیت تین قسم کے ہیں: بیت نسب،بیت سکن،بیت ولادت اس لیے اہل بیت بھی تین قسم کے ہیں۔(از اشعہ)

6135 -[1]

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا نزلت هَذِه الْآيَة [ندْعُ أبناءنا وأبناءكم] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أهل بَيْتِي» رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم اپنے اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب علی اور فاطمہ اور حسن و حسین کو بلایا ۲؎ عرض کیا الٰہی میرے گھر والے یہ ہیں۳؎(مسلم)

۱؎   اس طرح کہ انہیں اپنی ان بد دعاؤں میں شامل کریں خواہ اس طرح کہ مباہلہ میں انہیں حاضر کریں یا اس طرح کہ وہ اگرچہ یہاں سے غائب رہیں مگر انہیں بددعاء میں داخل کریں۔چنانچہ نجران کے عیسائیوں نے یہاں اپنے بچوں کو نجران سے نہیں بلایا تھا۔

۲؎  اس وقت حضرت رقیہ،ام کلثوم اور جناب ابراہیم وفات پاچکے تھے اس لیے وہ نہ آئے۔حضرت علی اہل بیت سکونت اہل بیت نسب ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنھا و حسنین کریمین اہلِ بیت ولادت۔

۳؎ یعنی الٰہی یہ بھی میرے اہل بیت ہیں،یہ مطلب نہیں کہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان کے سواء اور کوئی نہیں ورنہ یہ حدیث ان آیات قرآنیہ کے بھی خلاف ہوگی اور ان احادیث کے بھی جو ابھی ہم نے عرض کیں۔خیال رہے کہ انسان ایسے موقعہ پر اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہے بیویوں یا دوستوں کی قسم نہیں کھاتا اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ان کو اپنے ہمراہ لے گئے مگر تفسیر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن