30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزاد کرکے مجھ پر احسان کرتا حضرت صدیق نے پانچ سو درہم اور ایک قیمتی غلام نسطاس کے عوض جناب بلال رضی الله عنہ کو خریدا۔حضور نے فرمایا ؎
گفت پیغمبر کہ اے اقبال جو در خریدن می شوم انبار تو
گفت ماد و بندگان کوئے تو کرو مش آزاد ہم بر روئے تو
اے صدیق بلال کی آدھی قیمت ہم سے لے لو اور ہم تم دونوں بلال کے خریدار بنیں،جناب صدیق نے عرض کیا کہ میں اور بلال دونوں آپ کے آستانہ کے غلام حضور میں کس کا ہوں اور میرا پیسہ کس کا ہے حضور اسے میں نے آپ کی خدمت کے لیے آزاد کردیا ؎
چوں بدید آں خستہ روئے مصطفی خر مغشیا علیہ برقفا
جب بلال نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا چہرہ انور دیکھا بے ہوش ہوکر گر پڑے حضور صلی الله علیہ وسلم نے بلال کا سر اپنے زانو پر رکھا فرمایا کہ اوذیت فی سبیل الله اے بلال تو الله کی راہ میں بہت ہی ستایا گیا۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھے ھو سیدنا واعتق سیدنا ابوبکر میرے آقا ہیں انہوں نے میرے آقا بلال کو آزاد کرایا ہے تاقیامت مسلمانوں کے محسن اعظم ہیں۔ابوبکر صدیق ہم سب کے آقا حضرت بلال کو آپ نے ہی آزاد کیا،یوں ہی عامر ابن فہیرہ کو حضرت صدیق نے آزاد کیا جن کی لاش بعد شہادت آسمان پر اٹھائی گئی(بخاری شریف)رضی الله عنہم اجمعین خدا کرے مجھے صدیق بغیر قیمت ہی خریدلیں اور دوزخ سے آزاد کردیں ؎
تو ہے آزاد سفر سے ترے بندے آزاد ہے یہ سالک بھی ترا بندہ بے ذر صدیق
حضرت صدیق نے بہت لونڈیاں اور غلام وہ آزاد کیے جو کفار کے ہاتھوں سخت مصیبت میں تھے۔
۵؎ یعنی خوشامد کی بناء پر کوئی ان کا دوست نہیں بہت لوگ خوشامدی ہوتے ہیں وہ خوشامدیوں کے دوست بھی ہوتے ہیں۔لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ الله رسول اور جناب صدیق اور مہاجرین و انصار بھی حضرت عمر کے دوست نہیں،نہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے"اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا"۔
۶؎ حق سے مراد قرآن مجید ہے اس کی شرح وہ حدیث ہے جو امام جلال الدین سیوطی نے جمع الجوامع میں نقل فرمائی القرآن مع القرآن یعنی قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ۔ہم نے جناب علی کی شان میں عرض کیا ہے ؎
یہ ہے خاموش قرآن اور وہ قرآن ناطق ہیں نہ ہوں جس دل میں یہ اس میں نہیں قرآن کا رشتہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع