30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی جناب علی مرتضٰی رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور تم کو ہدایت دینے والے،جو لوگ انہیں خلیفہ مانیں گے وہ ہدایت پر ہوں گے،جو انہیں خلیفہ نہیں مانیں گے وہ اس معاملہ میں ہدایت پر نہ ہوں گے بلکہ باغی ہوں گے،یہ ہی اہلسنت کا مذہب ہے کہ حضرت علی خلیفہ برحق ہیں امیر معاویہ اس زمانہ میں باغی تھے۔حضرت علی کی ڈگری امیر معاویہ کی معافی اس کی تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھو۔
|
6134 -[27] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ وَمَا لَهُ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الله ابوبکر پر رحمت کرے انہوں نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا ۱؎ اور مجھے ہجرت گاہ تک پہنچایا ۲؎ اور غار میں میرے ساتھ رہے۳؎ اور بلال کو اپنے مال سے آزاد کیا ۴؎ الله عمر پر رحمت کرے کہ وہ حق بات کہتے ہیں اگرچہ کڑوی ہو انہیں حق نے ایسا کردیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ۵؎ الله عثمان پر رحمت کرے کہ ان سے فرشتے غیرت کرتے ہیں، الله علی پر رحمت کرے،الٰہی علی کے ساتھ حق کو گردش دے جدھر وہ گردش کریں ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زندہ کو رحمۃ الله علیہ کہہ سکتے ہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی دختر نیک احترام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور صلی الله علیہ و سلم سے کیا،اس میں اپنی بیٹی کی قربانی ہے جس کی وجوہ ابھی ہم کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں اس لیے حضور انورصلی الله علیہ و سلم نے اسے صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلے میں ذکر فرمایا۔
۲؎ اس طرح کہ غار ثور تک حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو اپنے کندھے پر لے گئے اور اس سے آگے حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصاحب رفیق سفر رہے مدینہ منورہ تک۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے دو اونٹ پالے تھے ہجرت کے لیے ایک اپنے واسطے دوسرا حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے واسطے،جب حضور نے ہجرت کی خبر دی تو حضرت صدیق نے وہ اونٹ پیش فرمایا، حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہاں منظور ہے مگر قیمت سے،چنانچہ حضور نے آٹھ سو درہم میں وہ اونٹ جناب صدیق سے خریدا مگر قرض۔(اشعہ)یہ ثابت نہیں کہ حضور انور سے یہ قرضہ جناب صدیق نے وصول بھی کیا اگر وصول کیا بھی ہوگا تو حضور ہی پر خرچ کیا ہوگا۔
۳؎ یعنی غار ثور کی کئی راتیں کئی دن جناب صدیق نے میرے ساتھ گزارے کہ اس زمانہ میں ان کے سواء کسی نے مجھے نہ دیکھا،اس زمانہ میں ان کی عبادت تھی میرا منہ تکنا جو کسی اور کو میسر نہ تھی،اس غار میں مجھ پر جان فدا کی کہ میری حفاظت کرتے ہوئے سانپ سے اپنے پاؤں میں کٹوالیا یہ قربانی صرف انہوں نے کی رضی الله عنہ۔
۴؎ سبحان الله! حضرت بلال کی خریداری ان کا آزاد کرنا حضور نے جناب صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلہ میں بیان فرمایا ہے،حضرت بلال امیہ ابن خلف کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی بلال کو خرید لیتا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع