30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کی وصیت کی مگر بعد میں آرام ہوگیا تو وہ مال خود ہی خیرات کردیا(۷)ایک بار صحابہ سے کہا کہ جو اہل بدر سے ہو اسے فی کس چار سو دینار میں دوں گا(۸)ایک بار ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ دینار خیرات کیے رات کو حساب لگایا پھر بولے کہ میرے سارا مال مہاجرین و انصار پر صدقہ ہے حتی کہ فرمایا میری قمیض فلاں کو اور میرا عمامہ فلاں کو جبریل امین حاضر ہوئے،عرض کیا یارسول الله عبدالرحمن کے صدقات قبول انہیں بے حساب جنتی ہونے کی خبر دے دیجئے(۹)آپ نے تیس ہزار غلام آزاد کیے (۱۰)یہ واقعہ کہ ازواج مطہرات کی خدمت میں یہ باغ پیش کیا جس کا یہاں ذکر ہے۔(مرقات)
|
6131 -[24] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْثُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سلسبيلِ الجنةِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو اپنی بیویوں سے فرماتے سنا کہ جو شخص تم سب پر میرے بعد تم پر نچھاور کرے وہ سچا اور نیک ہوگا ۱؎ الٰہی عبدالرحمن ابن عوف کو جنت کے سلسبیل سے پلا ۲؎(احمد) |
۱؎ یحثوبنا ہے حثو سے بمعنی لپ بھر بھر کر کسی پر بکھیرنا یعنی نثارکرنا نچھاور کرنا یعنی جو میرے بعد تم پر دل کھول کر خرچ کرے وہ بہت ہی نیک و صالح ہوگا۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا ہے کہ تاقیامت جو مسلمان تمہارے نام پر خیرات کرے،تمہاری طرف سے حج بدل کرے،تمہارے نام پر مسجدیں یا خانقاہیں بنائے وہ بہت ہی نیک صالح ہے،اس فرمان عالی میں تاقیامت مسلمانوں کو لے لیا گیا ہے۔
۲؎ سلسبیل جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے جس کاذکر قرآن مجید میں ہے"عَیۡنًا فِیۡہَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیۡلًا"۔اہل عرب کہتے ہیں ماء سلسل،سلاسل،سلسبیلا یعنی بہت کثرت سے بہنے والا پانی۔یہ دعا یا تو حضرت ام سلمہ کی ہے یا خود حضور صلی الله علیہ و سلم کی کہ چونکہ عبدالرحمان ابن عوف نے میری ازواج پاک سے یہ سلوک کیا یا کرنے والے ہیں، خدایا تو انہیں جنت کا چشمہ سلسبیل عطا فرما۔معلوم ہوا کہ حضور کی دعا لینے کا ذریعہ ازواج مطہرات کی خدمت کرنا ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم جناب عائشہ صدیقہ کے گھر رہتے ہیں جو بھی ثواب ختم وغیرہ کا ہدیہ حضورصلی الله علیہ و سلم کو کرنا ہو اس میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کا نام شریف ضرور لیا جائے،ان کے توسط سے بارگاہ رسالت میں پیش کیا جائے تب حضور کے ہاں قبول ہوتا ہے۔فقیر حقیر احمد یار کی نیت پختہ ہے کہ اگر اب کی بار رب نے حج نصیب کیا تو ان شاءالله جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کی طرف سے حج بدل کروں گا اور عمرہ جناب ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی طرف سے،اس گنہگار پر ان دونوں سرکاروں کے بڑے احسانات ہیں مجھے انہوں نے ہی اپنے قدموں سے لگا کر باریاب کیا ہے رضی الله عنہما، الله ان کا بھلا کرے۔
|
6132 -[25] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا. فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الناسُ قَالَ: فَبعث أَبَا عبيدةَ بن الْجراح. |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نجران والے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎ عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہمارے پاس ایک امین آدمی بھیجیں ۲؎ تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس ایسا امین بھیجوں گا جیسا چاہیے ویسا امین ہے۳؎ لوگوں نے اس کا انتظار کیا فرمایا کہ حضور نے ابو عبیدہ ابن جراح کو بھیجا۔(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع