30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6128 -[21] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن قيس بن حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةَ وَوَرَقَ السَّمُرِ وَإِنْ كَانَ أَحَدنَا ليضع كَمَا تضع الشَّاة مَاله خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ وَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي. |
روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ میں نے سعد ابن ابی وقاص کو فرماتے سنا کہ میں پہلا عربی مرد ہوں جس نے الله کی راہ میں تیر چلایا ۱؎ اور میں نے اپنے کو دیکھا کہ ہم رسو ل الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے پاس کیکر کے بیج۲؎ اور کیکر کے پتوں کے اور کوئی کھانا نہ تھا اور ہم میں سے ہر ایک ایسا پاخانہ کرتا تھا جیسا کہ بکری کرتی ہے جس میں کوئی تری نہیں ہوتی۳؎ پھر بنو اسد مجھے اسلام سکھانا چاہتے ہیں۴؎ تب تو میں خسارہ والا ہوجاؤں گا اور میرے عمل برباد ہوجائیں گے ۵؎ لوگوں نے حضرت عمر کے پاس ان کی شکایت کی تھی کہا تھا کہ یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس کی شرح ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے کہ آپ نے کس موقعہ پر یہ تیر چلایا تھا اول تیر چلانا بھی الله تعالٰی کی بڑی نعمت رحمت ہے۔
۲؎ حبلہ ح کے پیش ب کے سکون سے کیکر یعنی ببول کے بیج۔نہ معلوم وہ حضرات یہ کیسے کھاتے ہوں گے یہ ہیں ان حضرات کی قربانیاں بے مثال اسلام کی قدر ان سے پوچھو ہم نے کمایا ہوا اسلام پایا ہم کیا قدر کرسکتے ہیں۔
۳؎ یعنی ہم کو پاخانہ بکری کی مینگنی کی طرح بالکل خشک ہوتا تھا جس میں کوئی تری نہیں،اگر کوئی تر چیز کھائیں تو تری ہو جب پتے اور ببول کے بیج کھائے جائیں گے تو پاخانہ بھی ایسا ہی ہوگا۔
۴؎ یہاں اسلام سے مراد نماز ہے کیونکہ نماز اسلام کا بہت اہم رکن ہے،قرآن مجید میں نماز کو ایمان کہا گیا ہے"مَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ"تعزیر بمعنی سزا بھی آتا ہے اور بمعنی تعلیم اور بمعنی تعظیم بھی"وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ وَ تُسَبِّحُوۡہُ"یہاں بمعنی تعلیم ہے۔(اشعہ)
۵؎ یعنی اگر ان تمام خدمات اور صحبت رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے باوجود مجھے نماز بھی نہیں آئی میں ان لوگوں کے سکھانے کا حاجت مند رہا تو میں بہت ہی خائب و خاسر ہوا،یہ لوگ مجھے نماز سکھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ مجھ سے نماز اور دوسرے احکام اسلام سیکھیں میں صحبت یافتہ مصطفی ہوں صلی اللہ علیہ و سلم ۔یہاں بنی اسد سے مراد زبیر ابن عوام ابن خویلد ابن اسد کی اولاد ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنے علمی کمالات و فضائل بیان کرنا جائز ہے کہ یہ بھی رب کا شکر ہے فخر نہیں۔
۶؎ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضرت سعد ابن ابی وقاص کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا،وہاں قبیلہ بنی اسد آباد تھے ان لوگوں نے آپ کی شکایت حضرت عمر رضی الله عنہ کی خدمت میں کی اس شکایت میں یہ بھی کہا کہ یہ نماز غلط پڑھتے ہیں اور ہم کو غلط ہی پڑھاتے ہیں جس سے ہماری نمازیں برباد ہوتی ہیں،حضرت عمر نے آپ کو طلب فرمایا اور ان کی شکایت پیش کیں تو آپ نے جواب میں یہ فرمایا کہ میں اولین مؤمنوں میں سے ہوں میں نے صدہا نمازیں حضور کے پیچھے پڑھی ہیں میری نماز غلط کیسے ہوسکتی ہے۔
|
6129 -[22] وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثَالِثُ الْإِسْلَامِ وَمَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لثالث الْإِسْلَام. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کو اسلام کا تہائی دیکھا ۱؎ اور کوئی آدمی نہیں لایا مگر اس دن جب میں اسلام لایا اور میں سات روز تک اس طرح رہا کہ میں اسلام کا تہائی حصہ تھا ۲؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی بالغ اور آزاد مردوں میں دو صاحب مجھ سے پہلے ایمان لائے تھے تیسرا میں اسلام لایا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص ساتویں مؤمن ہیں وہاں کل تعداد مراد ہے یہاں آزاد مردوں کی۔حضرت خدیجہ،ابوبکر صدیق،علی مرتضیٰ،حضرت بلال ان سے پہلے ایمان لاچکے تھے مگر جناب خدیجہ بی بی تھیں اور علی بچے بلال غلام تھے۔ (اشعہ، مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع