30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاک کر تیر مارا جو اس کی پیشانی پر لگا جس سے وہ گر گیا اور اس کا تہبند اٹھ گیا وہ ننگا رہ گیا حضور انور ہنس پڑے اور مجھے دعائیں دیں۔(مرقات)
|
6127 -[20] وَعَن جَابر قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: كَانَ سَعْدٌ مِنْ بَنِي زهرَة وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَالِي» . وَفِي «الْمَصَابِيحِ» : «فلْيُكرمَنَّ» بدل «فَلْيُرني» |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب سعد حاضر ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہیں میرے ماموں کوئی شخص مجھے اپنا ایسا ماموں دکھائے ۱؎ (ترمذی)اور کہا کہ سعد بنی زہرہ سے تھے اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی والدہ بنی زہرہ سے تھیں ۲؎ اسی لیے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں اور مصابیح میں بجائے فلیرنی کے فلیکرمن ہے ۳؎ |
۱؎ یعنی ایسا شاندار ماموں کسی کو نہیں ملا جیسا ماموں الله نے مجھے دیا ہے۔یہ حضرت سعد کی انتہائی عظمت ہے ؎
اولئك ابائی فجئنی بمثلہم انما جمعتنا یا جریر المجامع
۲؎ زہرہ زوجہ ہیں کلاب ابن کعب ابن لوی ابن غالب کی جناب آمنہ حضور صلی الله علیہ و سلم سے مل جاتی ہیں،کلاب میں اور زہرہ کی اولاد میں حضرت سعد بھی ہیں اس طرح حضرت سعد جناب آمنہ کے خاندان سے ہوئے اور ماں کا سارا خاندان خواہ دادا کی طرف سے ہو یا نانا کی طرف سے اپنے نانا ماموں ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت آمنہ رضی الله عنہا کی دادھیال مکہ معظمہ میں ہے اور ننہال مدینہ طیبہ میں اس نسبت سے انصار مدینہ بھی حضور صلی الله علیہ و سلم کے نانا ماموں ہیں اور ادھر حضرت سعد ابن ابی وقاص بھی۔
۳؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے دیکھ لیا کہ میں اپنے ماموں سعد کا کیسا ادب و احترام کرتا ہوں تم لوگ بھی اپنے نانا ماموں کا اسی طرح احترام و ادب کیا کرو،میرا یہ عمل تمہارے لیے سبق ہے۔
|
6128 -[21] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن قيس بن حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةَ وَوَرَقَ السَّمُرِ وَإِنْ كَانَ أَحَدنَا ليضع كَمَا تضع الشَّاة مَاله خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ وَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي. |
روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ میں نے سعد ابن ابی وقاص کو فرماتے سنا کہ میں پہلا عربی مرد ہوں جس نے الله کی راہ میں تیر چلایا ۱؎ اور میں نے اپنے کو دیکھا کہ ہم رسو ل الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے پاس کیکر کے بیج۲؎ اور کیکر کے پتوں کے اور کوئی کھانا نہ تھا اور ہم میں سے ہر ایک ایسا پاخانہ کرتا تھا جیسا کہ بکری کرتی ہے جس میں کوئی تری نہیں ہوتی۳؎ پھر بنو اسد مجھے اسلام سکھانا چاہتے ہیں۴؎ تب تو میں خسارہ والا ہوجاؤں گا اور میرے عمل برباد ہوجائیں گے ۵؎ لوگوں نے حضرت عمر کے پاس ان کی شکایت کی تھی کہا تھا کہ یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے ۶؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع