دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎  یعنی دونوں حضرات جنت میں مجھ سے بہت ہی قریب ہوں گے،پڑوسی قریب ہی ہوتا ہے قریب ہی رہتا ہے۔اس فرمان عالی میں ان دونوں حضرات کے مؤمن متقی ہونے،ان کا خاتمہ بالخیر،قبر کے امتحان میں کامیابی،محشر میں نجات، پل صراط سے بخیریت گزرنا،جنت میں داخلہ،وہاں کا مقام سب ہی بتادیا گیا۔

6124 -[17]

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ: «اللَّهُمَّ اشْدُدْ رَمْيَتَهُ وَأَجِبْ دعوتَه» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس دن یعنی احد کے دن فرمایا کہ الٰہی اس کی تیر اندازی کو مضبوط کر اور اس کی دعا قبول فرما   ۱؎ (شرح سنہ)

۱؎  اس فرمان عالی کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اجب دعوتہ تفسیر ہے سدد رمیتہ کی اور معنی یہ ہیں کہ مولٰی اس کی دعا کو تیر بہدف بنا دے کہ جو اس کے منہ سے نکلے تو پورا کردے۔دوسرے یہ کہ یہ دو دعائیں ہیں ایک یہ کہ ان کی تیر اندازی میں برکت دے کہ اس سے بہت کافر ہلاک ہوں اور ان کا نشانہ درست رہے،دوسری دعا یہ کہ الٰہی انہیں مقبول الدعاء مستجات الدعوات بنا۔

6125 -[18]

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الٰہی سعد جب بھی تجھ سے دعا کریں تو قبول فرمایا کر ۱؎ (ترمذی)

۱؎  سعد سے مراد حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جیساکہ دوسری روایات میں صراحۃً مذکور ہے،آپ بفضلہ تعالٰی بڑے مقبول الدعاء تھے حضور انور کی اس دعا کی برکت سے۔

6126 -[19]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ إِلَّا لِسَعْدٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» وَقَالَ لَهُ: «ارْمِ أَيهَا الْغُلَام الحزور» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے سعد کے سواءکسی کے لیے اپنے باپ و ماں جمع نہیں فرمائے ۱؎ کہ ان سے احد کے دن فرمایا تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۲؎  اور ان سے فرمایا اے بہادر لڑکے تیر چلا ۳؎ (ترمذی)

۱؎  یعنی احد کے دن کسی کے لیے ماں باپ جمع نہ کیے یا حضرت علی کو دوسرا واقعہ علم میں نہ ہوا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور نے جناب طلحہ سے یہ ہی فرمایا تھا فداك ابی و امی۔

۲؎  اس کا مطلب کچھ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس قسم کے فرمان انتہائی عزت افزائی کے لیے ہوتے ہیں تم پر میں فدا تم پر میرے ماں باپ فدا۔

۳؎  حزور بمعنی جوان بہادر تجربہ کار،آپ جب مسلمان ہوئے تو سترہ سال کے تھے غزوہ احد کے وقت آپ جوان تھے جوان آدمی کو بزرگ بیٹا یا بچہ کہہ دیتے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ ایک مشرک نے بہت مسلمانوں کو زخمی یا شہید کیا تھا،میں نے اسے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن