30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6116 -[9] وَعَن ابْن أبي مليكَة قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بكر. فَقيل: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بن الْجراح. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کسی کو خلیفہ بناتے تو کسے بناتے فرمایا ابوبکر کو،پھر کہا گیا پھر ابو بکر صدیق کے بعد کسے بناتے فرمایا عمر کو،کہا گیا کہ عمر کے بعد پھر کسے بولیں ابو عبیدہ ابن جراح کو ۲؎ (مسلم) |
۱؎ آپ کا نام عبدالله ابن عبید الله ابن ابی ملیکہ ہے اور ابو ملیکہ کا نام زہیر ابن عبدالله ہے،آپ تمیمی قرشی ہیں،تابعی ہیں، حضرت عبدالله ابن زبیر کےزمانہ میں آپ قاضی رہے، ۱۱۷ ایک سو سترہ میں وفات پائی،بہت صحابہ سے ملاقات کی۔
۲؎ یہ حضرت عائشہ صدیقہ کا اپنا اندازہ ہے کہ اگر حضور صلی الله علیہ و سلم اپنے بعد خلفاء ترتیب وار مقرر فرماتے توپہلے حضرت ابو بکر کو مقرر کرتے پھر حضرت عمر کو پھر حضرت ابوعبیدہ ابن جراح کو کیونکہ حضرت ابو عبیدہ میں خلافت کی تمام صلاحیتیں امانت داری سیاست دانی وغیرہ سب علی وجہ الکمال موجود تھیں۔سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کے پہلے چناؤ کے موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق نے کہا تھا کہ مجھے خلافت کا شوق نہیں تم میں علی،عمر،ابوعبیدہ ابن جراح موجود ہیں ان میں سے کسی کو خلیفہ بنالو،لوگوں نے کہا آپ سے بہتر کون ہوسکتا ہے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے عملی طور پر صدیق اکبر کو اپنا خلیفہ بنادیا تھا کہ مرض وفات شریف میں اپنے مصلے پر حضرت صدیق کو کھڑا کردیا تھا مگر قول سے خلیفہ نہیں بنایا تھا۔یہاں قولی خلیفہ بنانا مراد ہے کہ اگر حضور کسی کو اپنے قول سے خلیفہ بناتے تو ان صاحبوں کو بناتے۔
|
6117 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ».وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کوہ حراء پر تھے اور ابوبکر و عمر اور عثمان و علی طلحہ اور زبیر تھے کہ پتھرکی چٹان ہلی ۱؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا نہیں ہیں تجھ پر مگر نبی یا صدیق یا شہید ۲؎ بعض محدثین نے یہ زیادہ کیا کہ سعد ابن ابی وقاص بھی تھے اور حضرت علی کا ذکر نہیں کیا ۳؎ (مسلم) |
۱؎ حراء شریف یعنی جبل نور کی یہ حرکت وجدانی تھی اس فخر میں کہ آج مجھ پر ان حضرات کے قدم ہیں جن کا درجہ عرش الٰہی سے بھی زیادہ ہے۔معلوم ہوا کہ پتھر بھی حضور صلی الله علیہ و سلم بلکہ انکے صحابہ کو جانتے پہچانتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں،جس دل میں ان حضرات سے الفت نہ ہو وہ پتھر سے زیادہ سخت ہے۔
۲؎ یہاں او بمعنی واؤ ہے اور شہید سے مراد جنسی شہید ہے کیونکہ یہ پانچ حضرات سب ہی شہید ہیں حضرت عمر،عثمان، علی کی شہادت تو دنیا میں مشہور ہے،حضرت طلحہ اور زبیر کی شہادت جنگ جمل کے موقعہ پر ہوئی جب کہ یہ دونوں حضرات جنگ سے علیحدہ ہوچکے تھے،حضرت زبیر تو وادی السباع میں قتل کیے گئے وہاں سے بصرہ لاکر دفن کیے گئے، حضرت طلحہ جنگ سے الگ ہوگئے پھر بھی قتل کیے گئے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع