30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ واقعہ کسی غزوہ سے واپسی کے وقت ہوا کہ تمام رات حضور سفر کرتے رہے آخر رات میں آرام فرمانے کے لیے اترے۔
۲؎ چونکہ اس زمانہ میں بغیر حفاظت سونا خطرناک تھا اس لیے یہ دعا کی۔حضور نے یہاں دو دعائیں کیں: ایک یہ کہ میری حفاظت کے لیے کسی کو بھیج دے،دوسرے یہ کہ وہ محافظ بندہ صالح ہو حالانکہ رب وعدہ فرماچکا تھا کہ"وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ"تاکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہوجاوے۔اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کی حفاظت غیر صالحین کی حفاظت سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ صالحین کی حفاظت میں ہم سب کو رکھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر خدا کی مدد لینا نہ خلاف توحید ہے نہ خلاف توکل۔
۳؎ سبحان الله! یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کا اثر ادھر دعا فرمائی ادھر حضرت سعد کے دل میں یہ خیال آیا۔معلوم ہوا کہ حضرت سعد کا ایمان آپ کا تقویٰ وغیرہ رجسٹری شدہ ہے۔
۴؎ ایسی دعا تیر بہدف ہوتی ہے،حضور انور نے بہت خوش ہوکر یہ دعا دی،حضرت کا بیڑا تر گیا دعا کرانا اور دعا لینا اس میں بہت فرق ہے۔
|
6115 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجراح. |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ہر امت میں بعض لوگ ایسے گزرے ہیں کہ ان پر قوم پورا پورا بھروسہ کرتی تھی سب کو ان پر اعتماد تھا،ثقہ اور قوم میں پسندیدہ تھے،میری امت میں ان صفات کے ایسے مظہر حضرت ابو عبیدہ ہیں جو الله تعالٰی اور مخلوق اور اپنے نفس کے حقوق پورے پورے ادا کرتے ہیں ان میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتے۔خیال رہے کہ یہ صفات تمام صحابہ میں تھیں مگر حضرت ابوعبیدہ میں علی وجہ الکمال تھیں اور حضرت ابو عبیدہ میں امانت داری کے سواء اور بہت صفات تھیں مگر یہ صفات نمایاں تھی اس لیے فرمایا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ ہیں لہذا اس سے نہ تو یہ لازم ہے کہ باقی صحابہ امین نہ تھے،نہ یہ کہ جناب ابوعبیدہ میں سوائے امانت داری کے اور کوئی صفت نہ تھی۔حضرت ابو عبیدہ نے ۱۸ اٹھارہ میں ملک شام میں وفات پائی،عمر شریف اٹھاون سال ہوئی،عہد فاروقی میں وفات ہوئی،آپ مسلمانوں کے جرنیل اعظم تھے،آپ کی حتی الامکان کوشش یہ ہوتی تھی کہ جہاد میں مسلمانوں کا خون کم سے کم بہے اور زیادہ سے زیادہ فتح ہو،جب حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کرکے آپ کو سپہ سالار بنایا تو آپ نے بیس روز تک حضرت خالد کو اس کی خبر ہی نہ دی،سپاہیانہ شان سے کام کرتے رہے،دوسروں سے ان کو پتہ چلا کہ میں معزول ہوچکا رضی الله عنہما۔(مرقات)جب نجران کے لوگوں نے حضور سے عرض کیا کہ آپ ہمارے ہاں کوئی اپنا امین بھیج دیں تو حضور انور نے فرمایا کہ میں ایسا امین بھیجوں گا جیساکہ چاہیے،سب صحابہ منتظر رہے کہ ہم بھیجے جاویں مگر حضرت ابوعبیدہ کو بھیجا گیا۔(مرقات)
|
6116 -[9] وَعَن ابْن أبي مليكَة قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بكر. فَقيل: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بن الْجراح. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کسی کو خلیفہ بناتے تو کسے بناتے فرمایا ابوبکر کو،پھر کہا گیا پھر ابو بکر صدیق کے بعد کسے بناتے فرمایا عمر کو،کہا گیا کہ عمر کے بعد پھر کسے بولیں ابو عبیدہ ابن جراح کو ۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع