30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب مناقب العشرۃ رضی اللہ عنھم
دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم ۱؎
۱؎ یہ دس حضرات وہ مبارک جماعت ہے جسے خصوصی طور پر جنتی ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے فرمایا ؎
یہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام
وہ دس حضرات یہ ہیں جن کے نام شریف ان دو شعروں میں ہیں ؎
وہ یار بہشتی اند قطعی بوبکر و عمر،علی و عثمان
سعد است و سعید و بوعبیدہ طلحہ زبیر،عبدالرحمان
یعنی ابوبکر صدیق،عمر فاروق،عثمان غنی،علی حیدر کرار،طلحہ،زبیر ابن عوام،سعد ابن ابی وقاص،عبدالرحمن ابن عوف،ابوعبیدہ ابن جراح،سعید ابن زید یہ تمام حضرات قرشی ہیں ان کے بڑے درجے ہیں۔(از اشعۃ اللمعات)
|
6108 -[1] عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عمر سے فرمایا کہ اس خلافت کا زیادہ حقدار اس جماعت سے کوئی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی حالانکہ حضور ان سے راضی تھے ۱؎ تو حضرت علی،عثمان،زبیر،طلحہ،سعد اور عبدالرحمن کا نام لیا ۲؎ (بخاری) |
۱؎ عربی میں نفر تین سے دس تک کی جماعت کو کہتے ہیں۔حضور کے راضی ہونے سے مراد اعلیٰ درجہ کی رضا و خوشی ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تمام صحابہ تمام اہل بیت سے راضی تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان فاروقی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو خلیفہ کرسکتے ہیں،دیکھو اس وقت حضرت عثمان و علی سب سے افضل تھے مگر جناب عمر نے اور حضرات کا نام بھی خلافت کے لیے لیا۔دوسرے یہ کہ خلافت چند طرح سے ہوسکتی ہے: (۱)خلیفہ خود کسی کو اپنا جانشین کردے جیسے حضرت صدیق نے عمر فاروق کو کیا(۲)مجلس شوریٰ کسی کو خلیفہ بنالے جیسے عثمان غنی کی خلافت۔ (مرقات) خلافت کے لیے ہاشمی یا معصوم ہونا شرط نہیں۔
۲؎ جب ابو لولو نے عین نماز فجر میں محراب النبی صلی اللہ علیہ و سلم میں حضرت عمر کو خنجر مارا آپ سخت زخمی ہوئے،صحت کی امید نہ رہی تو لوگوں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں تب آپ نے ان چھ بزرگوں کے نام لیے کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ چن لینا۔خیال رہے کہ اس دس کی جماعت میں جناب صدیق اکبر پہلے وفات پاچکے تھے،آپ اب شہادت کا جام نوش کر رہے ہیں،حضرت ابو عبیدہ ابن جراح بھی وفات پاچکے تھے،رہے سعید ابن زید وہ حضرت عمر کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور سگے بہنوئی بھی اس لیے اپنی قرابت کی بنا پر ان کا نام نہیں لیا جیسے اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہ ابن عمر کو کہیں عہدہ پر نہ لگایا نہ اس وقت ان کا نام لیا،آپ کی شہادت کے بعد حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے ان پانچ حضرات سے کہا کہ تم میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع