30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5771 -[33] وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا محمدٌ رسولُ الله عَبدِي الْمُخْتَار لَا فظٌّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهُ بِطِيبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يتأزَّرون على أَنْصَافهمْ ويتوضؤون عَلَى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هَذَا لَفْظُ» الْمَصَابِيحِ " وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِير يسير |
روایت ہے حضرت کعب سے ۱؎ وہ توریت سے حکایت کرتے ہیں فرمایا ہم وہاں لکھا پاتے ہیں ۲؎ کہ محمد صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول ہیں میرے پسندیدہ بندے ہیں۳؎ نہ سخت دل ہیں اور نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۴؎ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے لیکن معاف فرمادیتے ہیں بخش دیتے ہیں۵؎ ان کی ولادت مکہ میں ہوگی۶؎ اور ان کی ہجرت مدینہ میں۷؎ اور ان کا ملک شام میں۸؎ ان کے امتی بہت حمد کرنے والے ہیں،آرام و تکلیف میں الله کی حمدکریں گے اور ہر درجہ میں الله کی حمد کریں گے ۹؎ اور ہر بلندی پر الله کی تکبیر کہیں گے۱۰؎ سورج کا خیال رکھیں گے ۱۱؎ جب نماز کا وقت آوے گا تو نماز پڑھا کریں گے۱۲؎ اپنی کمر پر تہبند باندھیں گے۱۳؎ اور اپنے اعضاء پر وضو کیا کریں گے۱۴؎ ان کا مؤذن آسمان کی فضا میں اذان دیا کرے گا۱۵؎ ان کی صف جہاد میں اور ان کی صف نماز میں برابر ہوگی۱۶؎ رات میں ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی بھنکار کی طرح ہوگی۱۷؎ یہ مصابیح کے لفظ ہیں،دارمی نے معمولی فرق سے روایت کی۔ |
۱؎ محاسن جمع ہے حسن کی،خلاف قیاس اس کے معنی ہیں خوبی عمدگی یا خوب عمدہ اعلیٰ۔افعال جمع ہے فعل کی بمعنی ظاہر اعضاء کے ظاہری کام یعنی ہماری تشریف آوری اس لیے ہے کہ ہم تمام لوگو ں کی دل کی عادتیں بھی اعلٰی درجہ کی کردیں اور ظاہری اعمال بھی،یا ان کے عقیدے بھی ٹھیک کردیں اور اعمال بھی،یا انہیں طریقت بھی سکھادیں شریعت بھی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ذاتی خوبی کو کرم کہا جاتا ہے،بیرونی خوبی کو کمال۔رب فرماتاہے:"مِنۡ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیۡمٍ"یا مقام کریم یا قرآن کریم حضور نے دنیا کی نیت ارادے عقیدے دلی حالات بھی درست فرمائے اور ان کی عبادات معاملات بھی ٹھیک کئے،انسان کو فرشتوں سے آگے بڑھا دیا،عرب کون تھے انہیں کیا کر دیا۔شعر
سب چمک والے اجلوں میں چمکا کئے اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ الله جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے صدق مقال،اکل حلال،سائلین کی حاجت روائی، امانت کی حفاظت،حیاء اور شرم،پڑوسیوں سے اچھا سلوک،مہمان کی تواضع،بڑوں کا احترام،چھوٹوں کا لحاظ،ماں باپ کی خدمت نصیب فرماتا ہے یہ اخلاق محمدیہ کا ایک کرشمہ ہیں۔(از مرقات)
۲؎ آپ مشہور تابعی ہیں،آپ کو کعب احبار کہتے ہیں،یہود کے بڑے عالم توریت کے ماہر تھے،حضور انور کا زمانہ شریف پایا مگر اس زمانہ میں نہ ایمان لائے نہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،عہد فاروقی میں ایمان لائے،آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے،خلافت عثمانیہ میں ۳۲ھ میں مقام حمص میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔(اکمال)
۳؎ مختار کے معنی پسندیدہ بھی ہیں اور اختیار والا بھی حضور،دونوں معنی سے مختار ہیں حضور کو الله نے اپنے خزانوں کا مالک کیا مختار کیا۔مختار تو توریت میں بھی آپ کو کہا گیا ہے۔شعر
کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے سرکار کیا مالک و مختار بنایا
مختار مقابل ہے مجبور کا،حضور مجبور نہیں مختار ہیں۔
۴؎ حضور انور دل کے نرم،زبان کے نرم،طبیعت کے نرم تھے،بازار میں تشریف لے جاتے تھے مگر تبلیغ احکام کے لیے نہ کہ محض سیرو تماشہ کے لیے،یہاں بازار میں جانے کی نفی نہیں بلکہ وہاں گھومنے پھرنے وہاں چیخ و پکار کرنے کی نفی ہے۔
۵؎ ہم عفو اور غفر کے فرق پہلے بیان کرچکے ہیں۔چھوٹے گناہ معاف کرنا غفر ہے،حق العباد معاف کرنا عفو ہے،حق الله معاف کرنا غفر،جرم معاف کردینا عفو ہے اور جرم چھپا لینا کہ اس کا کبھی ذکر نہ کیا جاوے تاکہ اسے شرمندگی نہ ہو غفر ہے۔مدارج النبوۃ میں ہے کہ جب عکرمہ ابن ابی جہل ایمان لائے تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تاکید فرمادی کہ عکرمہ کے سامنے کوئی ابوجہل کو برا نہ کہے کہ اس سے فطری طور پر عکرمہ کو تکلیف ہوگی۔خیال رہے کہ ہمارے ہر گناہ میں حق تعالٰی بھی مارا جاتا ہے اور حق الرسول بھی لہذا ہر گناہ کی معافی حضور سے مانگنا جائز ہے کیونکہ ہمارے گناہ سے حضور کو تکلیف ہوتی ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔
۶؎ خیال رہے کہ حضور کی پیدائش تو مکہ میں ہوئی مگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی آمد سارے جہاں میں جیسے سورج رہتا ہے چوتھے آسمان پر مگر چمکتا ہے سارے جہان پر اسی لیے رب نے تمام جہان سے خطاب فرمایا:"لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"پھر جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع