30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ سبحان الله! جو زبان حق ترجمان سے نکلا وہ ہو کے رہا آج یہ نظارہ ہو رہا ہے،روافض حب علی کے دعویٰ میں حد سے آگے نکل گئے،خوارج بغض علی میں حد سے آگے نکل گئے۔ان شاءالله اہلِ سنت کا بیڑا پار ہے۔الحمدلله ہمارے ایک ہاتھ میں جناب علی کا دامن ہے دوسرے ہاتھ میں حضرت صدیق و فاروق کا،ہم بفضلہ تعالٰی اہل بیت کی کشتی میں سوار ہیں اور صحابہ کرام سے ہدایت لے رہے ہیں جو امت کے لیے ہدایت کے تارے ہیں۔
۲؎ چنانچہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت تو کیا آپ کی عظمت و شرافت ہی کا انکار کردیا جناب مریم کے دامن پاک میں زنا کا دھبہ لگادیا حضور صلی الله علیہ و سلم نے یہ دھبہ دھویا،قرآن کریم نے ان کی عصمت و عظمت کے خطبے ارشاد فرمائے رضی الله عنہا۔
۳؎ چنانچہ بعض عیسائیوں نے آپ کو خدا کہہ دیا،بعض نے آپ کو خدا کا بیٹا کہا،بعض نے تیسرا خدا۔غرضکہ عبدیت سے نکال کر الوہیت میں داخل کردیا۔
۴؎ چنانچہ بعض روافض حضرت علی کو حضورصلی اللہ علیہ و سلم سے افضل کہتے ہیں ان کا شعر ہے۔
علی کو مصطفی سے میں تو افضل کہہ نہیں سکتا مگر اپنے سے بہتر دیکھ کر داماد کرتے ہیں
بعض روافض آپ کو خدا کہتے ہیں۔یہ نصیری فرقہ کا مذہب ہے عام شیعہ یہ پڑھا کرتے ہیں ؎
دکھا دو یا علی جلوہ نصیری کے خدا تم ہو یہ آنکھیں طالب دیدار ہیں حاجت روا تم ہو
لوگ بے وجہ نصیری کو برا کہتے ہیں کچھ تو دیکھا ہے علی میں جو خدا کہتے ہیں
۵؎ حضرت علی کے اس فرمان میں محبت کو افراط سے مقید کیا کیونکہ محبت علی اصل ایمان ہے ہاں محبت میں ناجائز افراط برا ہے مگر عداوت علی اصل ہی سے حرام بلکہ کبھی کفر ہے اس لیے شنان یعنی عداوت کو بغیر قید بیان فرمایا،بڑا ہی فصیح و بلیغ فرمان ہے۔
|
6103 -[17] وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ:«أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب اور زید ابن ارقم سے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم خم تالاب پر اترے ۱؎ تو جناب علی کا ہاتھ پکڑا فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں مؤمنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں سب نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا والی ہوں اس کی جان سے زیادہ ۲؎ لوگ بولے ہاں تو فرمایا الٰہی جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی(دوست)ہیں۳؎ الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جوان سے دشمنی کرے تو اس کا دشمن رہ ۴؎ جناب علی سے اس کے بعد حضرت عمر ملے بولے اے ابو طالب کے فرزند مبارک ہو کہ تم نے صبح سویرا پایا اس طرح کہ تم ہر مؤمن مردوعورت کے مولٰی ہو ۵؎(احمد) |
۱؎ غدیر بمعنی تالاب خم ایک جگہ ہے حجفہ منزل سے تین میل دور یہ واقعہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ہوا بعض لوگ سمجھے کہ یہ واقعہ حج کو جاتے ہوئے ہوا اس وقت حضرت علی یمن میں تھے وہاں موجود ہی نہ تھے اس وہم سے انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے واپسی پر یہ واقعہ ہوا ہے اس وقت جناب علی ساتھ تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع