دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6100 -[14]

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۱؎ (احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے

۱؎ سبحان الله! حضرت علی ایمان کی کسوٹی ہیں۔جو اپنے ایمان کی تحقیق کرنا چاہے کہ میں مؤمن ہوں یا منافق وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں غور کرے کہ مجھے ان سرکار سے کتنی محبت ہے۔خیال رہے کہ یہاں محبت علی کا ذکر ہے نہ کہ صرف دعویٰ محبت علی کا،محض دعویٰ محبت کرنا اور ہر طرح ان سرکار کی مخالفت کرنا در حقیقت حضرت علی سے عداوت ہے۔بعض لوگ بے نمازبھنگی چرسی اولاد علی کو،حضرات صحابہ کو جو حضرت علی کے دوست ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں وہ محبان علی نہیں دشمنان علی ہیں،رب فرماتاہے:"اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ"اطاعت علی بڑی چیز ہے الله وہ نصیب کرے۔

6101 -[15]

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جس نے علی کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا ۱؎ (احمد)

۱؎ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو کوئی حضرت علی کرم الله وجہہ کو نسبی خاندان کی گالی دے وہ درحقیقت الله کے محبوب صلی الله علیہ و سلم کو گالی دیتا ہے کیونکہ حضور بھی حضرت علی کے خاندان میں شامل ہیں یہ خالص کفر ہے۔دوسرے یہ کہ جو انہیں عناد سے برا کہے وہ درحقیقت مجھے برا کہتا ہے کیونکہ میں اور وہ گویا ایک ہی ہیں ان کی تعظیم میری تعظیم ہے،ان سے عداوت مجھ سے عداوت ہے۔خیال رہے کہ کبھی کسی صحابی نے حضرت علی سے نہ عداوت رکھی نہ انہیں برا کہا،ان میں اختلاف رہے ان سے مخالفت یا عداوت نہ تھی،یہ اختلاف ایسے ہی تھے جیسے حضرات برادران یوسف علیہ السلام کی مخالفت یوسف علیہ السلام سے یا جیسے حضرت سارہ کا حضرت ہاجرہ سے اختلاف کہ یہ نہ کفر ہے نہ فسق بلکہ اختلاف رائے ہے یہ حدیث بہت طریقوں سے مروی ہے۔چنانچہ امام احمد نے عروہ ابن زبیر سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے سامنے حضرت علی کی کچھ برائی کی تو حضرت عمر نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی قبر شریف کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ کیا تم اس قبر کے مکین کو جانتے ہو اس میں محمد ابن عبدالله ابن عبدالمطلب جلوہ گر ہیں تم جب بھی علی کاذکر کرو تو خیر سے کرنا،اگر تم ان کی اہانت کی تو سمجھو کہ تم نے حضور کو ستایا۔(مرقات)

6102 -[16]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے ۱؎ جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی۲؎  اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا۳؎ پھر فرمایا میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں۴؎  اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے ۵؎(احمد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن