30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6098 -[12] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت علی سے فرمایا اے علی میرے اور تمہارے سوا کسی کو جائز نہیں کہ اس مسجد سے جنبی ہوکر گزرے ۱؎ علی ابن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار ابن صراد سے کہا کہ اس حدیث کے معنی کیا ہیں فرمایا یہ مطلب ہے کہ میرے اور تمہارے سوا کسی کو حلال نہیں کہ جنابت میں مسجد کو راستہ بنائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔ |
۱؎ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے،یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی کرم الله وجہہ کو مسجد میں جنبی ہونے کی اجازت ہے بلکہ بحالت جنابت مسجد میں سے گزرنے کی اجازت دی گئی مطلب وہ ہے جو آگے آرہا ہے۔
۲؎ اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ کسی کے گھر کا دروازہ مسجد کی طرف نہ ہوتا کہ اسے مسجد میں گزرنا پڑے سوائے حضرت علی کے کہ ان کے گھر کا دروازہ مسجد میں ہوسکتا ہے وہ مسجد میں گزریں اگرچہ بحالت جنابت ہوں یہ حکم حضور کی حیات شریف میں تھا۔وفات کے قریب فرمایا کہ جس کا دروازہ مسجد میں ہو وہ بند کردیا جاوے سوائے ابوبکر کے دروازہ کے کہ وہ کھلا رہے۔ لایبقین خوختہ آخر میں ہے الا خوخۃ ابی بکر اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ دوسری مسجدوں میں سے گزرنا بحالت جنابت احناف کے یہاں منع ہے،شوافع کے ہاں جائز ہے الا عابری سبیل مگر مسجد نبوی شریف میں سے بحالت جنابت گزرنا سب کے نزدیک حرام ہے سواء حضرت علی اور حضرت ابوبکر صدیق کے،اب بھی حضرت صدیق کے گھر کا دروازہ مسجد نبوی میں ہے جسے اب باب ابوبکر الصدیق میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
|
6099 -[13] وَعَن أم عطيَّة قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا جن میں جناب علی تھے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا حالانکہ آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے الٰہی مجھے موت نہ دینا حتی کہ تو مجھے علی کو دکھا دے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ آپ کا نام شریف نصیبہ بنت کعب یا بنت حارث ہے،انصار،یہ ہیں،اکثر جہادوں میں جاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
۲؎ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ دعا یا تو حضرت علی کو بھیجتے وقت مانگی یا جب حضرت علی چلے گئے تب مانگی یا جب اس لشکر کی واپسی کی خبر پہنچی تب مانگی۔بہرحال اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو حضرت علی سے انتہائی محبت تھی ان کی غیرموجودگی بہت شاق تھی۔(مرقات وغیرہ)
|
6100 -[14] عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۱؎ (احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع