30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6093 -[7] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلم تُؤاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أُحُدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۱؎ تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا ۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔ |
۱؎ اس طرح کہ مہاجرین کو انصار کا بھائی قرار دیا کہ فلاں مہاجر فلاں انصار کا بھائی اور فلاں فلاں کا کہ ہر ایک دوسرے کے مال میں برابر کا حصہ دار ہے اور بعد وفات ایک دوسرے کا وارث بعد میں یہ حکم آیت میراث سے منسوخ ہوگیا انصار نے اپنا آدھا مال بخوشی اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا ایسی بے مثال مہمان داری آسمان نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
۲؎ یارسول الله آپ نے مجھے کسی انصاری کا بھائی نہ بنایا میں بے یارومددگار رہ گیا۔
۳؎ یعنی تم رشتہ میں بھی میرے چچا زاد بھائی ہو اور اب اس عقد مواخات میں بھی تم کو اپنا بھائی بنایا اور دنیا و آخرت میں اپنا بھائی بنایا۔سبحان الله! مگر خیال رہے کہ اس کے باوجود کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھائی کہہ کر نہ پکارا جب پکارا تو یارسول الله کہہ کر پھرکسی ایرے غیرے کو بھائی کہنے کا حق کیسے ہوسکتا ہے۔
|
6094 -[8] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ» فجَاء عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک چڑیا تھی ۱؎ تو فرمایاالٰہی میرے پاس ایسے شخص کو لا جو ساری مخلوق سے تجھے پسند ہو کہ میرے ساتھ یہ چڑیا کھائے ۲؎ تو ان کے پاس علی آئے آپ کے ساتھ کھائی (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎ |
۱؎ یعنی بھنی ہوئی بٹیر یا کوئی اور ایک انصاری بی بی نے بھون کر بطورِ ہدیہ آپ کی خدمت میں بھیجی تھی۔(مرقات)
۲؎ باحب خلقك میں ب بمعنی من ہے یعنی جو جماعت تجھے بہت محبوب ہے ان میں سے ایک کو بھیج دے اور واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ اس جماعت میں تھے یا یہ مطلب ہے کہ جس کا میرے ساتھ یہ چڑیا کھانا مجھے بہت پسند ہو اسے میرے پاس بھیج دے۔بہرحال اس کا مطلب یہ نہیں کہ جناب علی خدا کو محبوب تھے اور کوئی نہ تھا ورنہ لازم آوے گا کہ حضرت فاطمہ زہرا بلکہ خود حضور اور حسنین کریمین بھی خدا کے محبوب بندے نہ ہوں نعوذ بالله! خیال رہے کہ محبوبیت بہت قسم کی ہے: ازواج اور قسم کی محبوبہ ہیں،فاطمہ زہرا دوسری قسم کی محبوبہ،حضرت حسنین اور طرح کے محبوب،علی مرتضیٰ اور طرح کے محبوب، ابوبکر صدیق عمر فاروق اور طرح کے محبوب،ازواج اولاد دوست ان سب سے محبت ہوتی ہے مگر مختلف قسم کی،ایک قسم کی محبت میں حضرت علی سب سے زیادہ ہیں۔ دوسری قسم کی محبت میں حضرت ابوبکر صدیق یا عائشہ صدیقہ سب سے زیادہ محبوب ہیں لہذا تمام احادیث برحق ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع