30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ حضرت علی ہر مؤمن کے مدد گار ہیں تا قیامت۔دوسرے یہ کہ آپ کو مولٰی علی کہنا جائز ہے کہ آپ ہر مسلمان کے ولی اور مولٰی ہیں۔
|
6091 -[5] وَعَن زيد بن أَرقم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی ہیں ۱؎ (ترمذی،احمد) |
۱؎ یہاں بھی مولٰی بمعنی خلیفہ نہیں بلکہ بمعنی مددگار یا بمعنی دوست ہے جسے حضور سے محبت ہے اسے حضرت علی سے محبت ہونی ضروری ہے،اگر مولٰی بمعنی خلیفہ ہو تو بتاؤ کہ حضور انور کس کے خلیفہ تھے اور جو لوگ حضور کے زمانہ میں شہید یا فوت ہوئے ان کے علی خلیفہ کیسے ہوئے ہاں آپ محبوب،مددگار،دوست ہر مؤمن کے ہیں۔
|
6092 -[6] وَعَن حبشِي بن جُنَادَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلَا يُؤَدِّي عني إِلَّا أَنا وَعلي» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي جُنَادَة |
روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں ۲؎ اور میری طرف سے پیغام نہ دے گا مگر میں یا علی ۳؎(ترمذی)اور احمد نے ابو جنادہ سے روایت کی۔ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع میں آپ نے دیکھا اہل کوفہ سے ہیں۔(مرقات،اشعہ)
۲؎ امام احمد نے مناقب میں ابو رافع سے روایت کی کہ جب غزوہ احد میں حضور کو کفار نے گھیر لیا ان میں سے بعض جھنڈے لیے ہوئے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان جھنڈے والوں کو قتل کردیا،حضرت جبریل نے حضورصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے حق ادا کردیا حضور نے فرمایا کہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ میں آپ دونوں سے ہوں۔(مرقات)
۳؎ یہ فرمان عالی اس وقت کا ہے جب فتح مکہ کے بعد حج کا موسم آیا تو حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چند احکام کا اعلان فرمانے مکہ معظمہ بھیجا جن میں یہ بھی تھا کہ اب کوئی مشرک مکہ معظمہ نہ آئے کوئی ننگا طواف نہ کرے اور اس زمانہ میں صلح یا پیغام یا صلح کا خاتمہ کرنا ہوتا تو یا تو حاکم خود اعلان کرتا تھا یا حاکم کا قریبی رشتہ دار اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعد میں خیال فرمایا کہ کفار عرب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ اعلان قبول نہ کریں گے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے پیچھے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ سورۂ توبہ کا اعلان فرمادیں حضرت علی راستہ میں ہی حضرت صدیق کو مل گئے،صدیق اکبر نے پوچھا کہ اے علی تم امیر بن کر آئے ہو یا مامور،فرمایا نہیں بلکہ مامور بن کر آیا ہوں تب حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ میں علی سے قریب ہوں علی مجھ سے قریب ہیں،میری طرف سے علی ہی صلح وغیرہ کی گفتگو لوگوں سے کرسکتے ہیں۔ یؤدی کے معنی ہیں اداء پیغام کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر وہاں نقض صلح یا صلح کی گفتگو کرنے حضرت عثمان کو نہ بھیجا گیا،صلح نامہ تو خود حضور انور نے اس میدان میں لکھوایا تھا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ وہاں حضرت عثمان کو کیوں بھیجا علی کو کیوں نہ بھیجا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع