30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6089 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ الله أقاتلهم حَتَّى يَكُونُوا مثلنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ». وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعَلي:«أَنْت مني وَأَنا مِنْك» فِي بَاب «بُلُوغ الصَّغِير» |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خیبر کے دن فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ الله تعالٰی فتح دے گا ۱؎ وہ الله اور رسول سے محبت کرتا ہے اور الله رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎ پھر جب لوگوں نے صبح پائی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں سب حاضر ہوئے ہر ایک یہ آس لگائے کہ جھنڈا اسے دیا جاوے۳؎ فرمایا علی ابن طالب کہاں ہیں لوگوں نے عرض کیا آنکھوں کے بیمار ہیں فرمایا انہیں بلاؤ ۴؎ چنانچہ انہیں لایا گیا ۵؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا وہ ایسے اچھے ہوگئے گویا انہیں درد تھا ہی نہیں ۶؎ حضور نے انہیں جھنڈا دیا تو علی نے عرض کیا یارسول الله کیا میں ان سے جنگ کروں حتی کہ وہ ہماری مثل ہو جاویں ۷؎ فرمایا اپنے نرمی پر جاؤ حتی کہ ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں الله کے ان حقوق کی خبر دو جو ان پر لازم ہیں اسلام میں ۸؎ خدا کی قسم الله تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے یہ تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تمہارے پاس سرخ اونٹ ہوں ۹؎(مسلم،بخاری) اور براء کی حدیث کہ حضور نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے قریب ہو میں تم سے بلوغ صغیر کے باب میں ذکر کردی گئی ۱۰؎ |
۱؎ یعنی تقدیر الٰہی یہ ہے کہ حضرت علی فاتح خیبر ہوں اور اس فتح کا سہرا ان کے سر رہے ورنہ اور صحابی بھی فتح کرسکتے تھے۔جس پر حضور ہاتھ رکھ دیتے وہ ہی فتح کرلیتا انہیں صحابہ نے یرموک اور قادسیہ جیسی جنگیں فتح فرمائی ہیں رضی الله عنہم۔
۲؎ یعنی الله رسول اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہونا پسند کرتے ہیں۔اس فرمان عالی کہ مطلب یہ نہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ تو الله رسول کو پیارے ہیں باقی تمام صحابہ اور حضرت فاطمۃ الزہرا حسنین کریمین خدا کو پیارے نہیں خدا تعالٰی ان سب سے ناراض ہے نعوذ بالله!
۳؎ تمام صحابہ نے رات بھر صبح کا انتظار کیا کہ دیکھیں کس کی قسمت چمکتی ہے صبح کو تمام صحابہ اسی امید میں حضور انور کے سامنے پیش ہوگئے مگر یہ سعادت تو حضرت علی رضی الله عنہ کے نصیب میں تھی،چونکہ اس سعادت کے ملنے کی تمنا کرنا اس کا رات بھر انتظار کرنا بھی عبادت تھا اس لیے حضور نے صراحۃً حضرت علی کا نام نہیں لیا تاکہ سب لوگ انتظار اور تمنا کرکے ثواب پائیں۔
۴؎ حضرت علی کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اس لیے وہ فجر کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے اپنے خیمہ میں رہے،حضور انور نے بطور تعجب پوچھا کہ اس مبارک موقعہ پر علی کیوں نہیں،یہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی مدینہ منورہ میں تھے حضور نے پکارا اے علی میری مدد کو پہنچو میرا ساتھ صحابہ نے چھوڑ دیا آپ مدینہ سے اڑ کر خیبر پہنچے نعوذ بالله! یہ سب روافض کا بہتان ہے۔
۵؎ یعنی آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ دوسرے صحابہ آپ کو پکڑ کر حضور تک لائے حضور نے آنکھوں کی تکلیف دیکھ کر لعاب دہن لگایا۔
۶؎ یہ ہے لعاب رسول کا معجزہ۔حضرت علی کی آنکھ کا سرمہ ہے،حضرت عبدالله ابن عتیک کی ٹوٹی ہڈی کا سریش ہے، کھاری کنویں میں پڑے میٹھا کردے خشک کنویں میں پڑے اس میں پانی پیدا کردے غرضکہ معجزات کا مجموعہ ہے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس کے بعد آپ کی آنکھوں میں کبھی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔خیال رہے کہ حضور انور کو یہ خبر تھی کہ خلافت حیدری میں اسلامی فتوحات نہ ہوں گی خانہ جنگی رہے گی اس لیے فتح خیبر کے لیے آپ کو چنا گیا تاکہ تاقیامت خیبر کا ہر ذرہ آپ کی شجاعت کے خطبے پڑھے۔شعر
الله تعالٰی تری شوکت تری صولت کا کیا کہنا کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع