30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا ہے کہ حضرت علی نے تقیہ کرکے دب کر ان خلفاء سے بیعت کی تھی۔ نعوذ بالله شیر نہ تقیہ کرتا ہے نہ دبتا ہے نہ مظلوم ہوتا ہے حضرت علی شیر تھے۔شعر
چوں علی شیر است و حق باشیر نر ظلم نتواں کرد بر شیر اے پسر
روافض کا یہ استدلال بالکل غلط ہے اس لیے کہ یہاں اس وقتی خلافت کا ذکر ہے جو حضور کی غیرموجودگی میں حضرت علی کو عطا ہوئی واپسی پر ختم ہوگئی۔حضرت ہارون کے ساتھ مشابہت صرف اس عارضی وقتی خلافت میں ہے تشبیہ مطلق نہیں بلکہ تشبیہ مقید ہیں ورنہ حضرت ہارون سگے بھائی تھے موسیٰ علیہ السلام کے،حضرت علی چچا زاد بھائی،نیز حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے حضرت علی چھوٹے، حضرت ہارون موسیٰ علیہ السلام سے چالیس سال پہلے وفات پاگئے تھے حضرت علی بعد میں حیات رہے،نیز حضور نے صرف حفاظت مدینہ کا حضرت علی کو خلیفہ کیا تھا نماز کا امام نہ بنایا تھا وہ تو ابن ام مکتوم تھے رضی الله عنہ لہذا خلافت بلافصل کو اس حدیث سے دور کا تعلق بھی نہیں۔
|
6088 -[2] وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مؤمنٌ وَلَا بيغضني إِلَّا مُنَافِق. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت زربن حبیش سے فرماتے ہیں فرمایا علی رضی الله عنہ نے اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی صلی الله علیہ و سلم نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق ۱؎ (مسلم) |
۱؎ حب علی ایمان کی نشانی ہے بغض علی نفاق کی علامت ہے مگر محبت سے مراد ہے سچی محبت نہ کہ محض دعویٰ کی محبت، سچی محبت علی بفضلہ تعالٰی اہل سنت کو حاصل ہے۔سچی محبت کی چند علامات ہیں: ایک یہ کہ اعمال میں ان سرکار کی پیروی کرے ان کی مخالفت نہ کرے،حضرت علی کی ساری اولاد سارے دوستوں سے محبت کرے،بغض صحابہ اور حب علی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔غضب تو دیکھو کہ حضرت علی کے دو بیٹوں سے محبت اور ان کے باقی بیٹوں،باقی بیٹیوں سے عداوت،ابوبکر،عثمان ،ام کلثوم یہ سب اولاد علی ہیں ان کو گالیاں دیتے ہیں یہ محبت علی کیسی۔
|
6089 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ الله أقاتلهم حَتَّى يَكُونُوا مثلنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ». وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعَلي:«أَنْت مني وَأَنا مِنْك» فِي بَاب «بُلُوغ الصَّغِير» |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خیبر کے دن فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ الله تعالٰی فتح دے گا ۱؎ وہ الله اور رسول سے محبت کرتا ہے اور الله رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎ پھر جب لوگوں نے صبح پائی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں سب حاضر ہوئے ہر ایک یہ آس لگائے کہ جھنڈا اسے دیا جاوے۳؎ فرمایا علی ابن طالب کہاں ہیں لوگوں نے عرض کیا آنکھوں کے بیمار ہیں فرمایا انہیں بلاؤ ۴؎ چنانچہ انہیں لایا گیا ۵؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا وہ ایسے اچھے ہوگئے گویا انہیں درد تھا ہی نہیں ۶؎ حضور نے انہیں جھنڈا دیا تو علی نے عرض کیا یارسول الله کیا میں ان سے جنگ کروں حتی کہ وہ ہماری مثل ہو جاویں ۷؎ فرمایا اپنے نرمی پر جاؤ حتی کہ ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں الله کے ان حقوق کی خبر دو جو ان پر لازم ہیں اسلام میں ۸؎ خدا کی قسم الله تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے یہ تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تمہارے پاس سرخ اونٹ ہوں ۹؎(مسلم،بخاری) اور براء کی حدیث کہ حضور نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے قریب ہو میں تم سے بلوغ صغیر کے باب میں ذکر کردی گئی ۱۰؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع