30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب مناقب ھٰؤلاء الثلثۃ رضی اللہ عنھم
۱؎ یعنی اس باب میں وہ حدیثیں پائی جائیں گی جن میں ان تینوں حضرات کے فضائل ہوں رضی اللہ عنہم۔
|
6083 -[1] عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ:«اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر صدیق عمر و عثمان احد پر چڑھے تو وہ ان سب پر کانپا ۱؎ حضور نے اسے اپنے پاؤں سے مارا فرمایا اے احد ٹھہر جا کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۲؎(بخاری) |
۱؎ یہ حضرات یا تو احد پہاڑ اور وہاں پر شہداء کے مزارات کی زیارت کرنے تشریف لے گئے تھے یا ویسے ہی سیر و سیاحت کے لیے چڑھے تھے,پہاڑ خوشی میں وجد کرنے اور ہلنے لگا کہ آج مجھ پر ایسے قدم آئے۔معلوم ہوا کہ اللہ کے مقبول بندے ولی ساری خلقت کے محبوب ہوتے ہیں ان کی تشریف آوری سے سب خوشیاں مناتے ہیں انہیں پتھر اور پہاڑ بھی جانتے ہیں۔
۲؎ اس ترتیب ذکر ی سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑا درجہ نبی کا پھر صدیق کا پھر شہید کا کیونکہ صدیق کا ذکر شہید سے پہلے ہوا، قرآن مجید میں بھی اسی ترتیب سے ذکر ہے"مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ"۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سب کے انجام سے خبردار ہیں کہ فرمایا ان میں سے دو صحابہ شہید ہو کر وفات پا جائیں گے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ وجد والے صوفیاء سے ضبط والے صوفی افضل ہوتے ہیں کہ حضور نے احد کو یہ ہی تلقین فرمائی کہ وجد نہ کر ضبط کر،کسی نے حضرت جنید سے پوچھا کہ سماع کے وقت آپ کو وجد کیوں نہیں آتا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی"وَ تَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ"۔(مرقات)یعنی ہم وہ پہاڑ ہیں جو بظاہر ٹھہرے معلوم ہوتے ہیں بہ باطن متحرک،اسی قسم کا واقعہ جبل ثبیر جبل حراء پر بھی گزرا ہے،حرا پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم،ابوبکر،عمر،عثمان،علی،طلحہ،زبیر تھے وہ وجد میں آگیا تو فرمایا تجھ پر نبی،صدیق اور شہداء ہیں۔(مرقات)
|
6084 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثمَّ قَالَ: الله الْمُسْتَعَان. |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا ۱؎ کہ ایک صاحب آئے دروازہ کھولنے کو کہا،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۲؎ وہ ابوبکر تھے میں نے انہیں حضور کے فرمان کی بشارت دے دی انہوں نے اللہ کا شکر کیا ۳؎ پھر اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھلوایا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۴؎ میں نے کھولا تو وہ جناب عمر تھے میں نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے خدا کا شکر کیا پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا مجھ سے حضور نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دو ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی ۵؎ میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بولے اللہ مددگار ہے ۶؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع