دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۳؎ یعنی مجھ سے حضور نے عہد لیا ہے کہ اس موقعہ پر صبر کروں،قاتلوں کا مقابلہ نہ کروں،خلافت نہ چھوڑوں اس عہد کی بنا پر حضرت عثمان نے نہ تو خود اپنا دفاع کیا نہ اپنے کسی غلام کو نہ کسی دوست کو جنگ کی اجازت دی،ورنہ آپ کے اپنے اتنے غلام تھے کہ باقاعدہ باغیوں سے جنگ کرسکتے تھے آپ جانتے تھے کہ اب میری شہادت یقینی ہے میں زمین مدینہ کو خون سے کیوں رنگین کراؤں۔

6082 -[14]

وَعَن أبي حبيبةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ»وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النبوَّة»

روایت ہے حضرت ابوحبیبہ سے ۱؎ کہ وہ حضرت عثمان کے گھر گئے جب عثمان اس میں محصور تھے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو سنا کہ وہ حضرت عثمان سے گفتگو کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے۲؎  آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ کھڑے ہوئے۳؎  الله کی حمد و ثنا کی پھر کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میرے بعد فتنہ اور اختلاف دیکھو گے یا فرمایا کہ اختلاف اور فتنہ۴؎ تو لوگوں میں سے ہی کسی کہنے والے نے کہا کہ اس وقت ہمارا کون ہوگا یا اس وقت آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تم اس اسیر کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا اور آپ حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرتے تھے۵؎ (بیہقی دلائل النبوۃ)

۱؎  آپ کا نام عمرو ابن نصیر ہے،حازی ہیں،ہمدانی ہیں،تابعی ہیں،حضرت علی سے روایات لیتے ہیں۔

۲؎  یعنی ابوحبیبہ جب حضرت عثمان کے پاس حاضر ہوئے تو وہاں جناب ابوہریرہ کو پایا کہ وہ آپ سے اجازت مانگ رہے تھے کہ مجھے اجازت دیجئے میں آپ کے متعلق ان محاصرہ کرنے والے باغیوں سے کچھ گفتگو اور فہمائش کروں کہ وہ اس حرکت سے باز آجائیں یا خود حضرت عثمان سے کچھ عرض و معروض کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ آپ سے اس وقت کلام کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا۔

۳؎  حضرت ابوہریرہ یا تو اس گھر کی چھت پرکھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کرنے کو یا ان باغیوں میں آکر کھڑے ہوئے بہرحال خطاب باغیوں ہی سے کیا جہاں سے بھی کیا۔

۴؎ یہ شک کسی اور راوی کو ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو نہیں یعنی حضرت ابوہریرہ نے فتنہ و اختلاف فرمایا یا  اختلافًا و فتنۃً فرمایا۔بہرحال اس اختلاف اور فتنہ سے مراد حضرت عثمان غنی کے زمانہ کا یہ فتنہ و اختلاف ہے جو آج موجود ہے۔

۵؎  یعنی اس وقت حضرت عثمان خلیفہ برحق ہوں گے ان کے ساتھی حق پر ہوں گے تم سب کو امان عثمان کے دامن میں ملے گی تو اے باغیوں بغاوت سے باز آجاؤ۔خیال رہے کہ ان صحابہ نے باغیوں کو فہمائش تو کی مگر کسی نے ان سے جنگ نہ کی جس کی وجہ ہم ابھی اوپر عرض کرچکے۔حضرت عثمان غنی نے قسمیں دے دے کر اپنے غلاموں اور دوستوں کو جنگ سے روکا خود جب شہید ہوئے تو بچاؤ کے لیے اپنا ہاتھ بھی نہ اٹھایا۔آپ سید العابدین ہیں حضور انور کے عہد پر قائم،قاتل نے پہلے آپ کا ہاتھ کاٹا تو آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اسی ہاتھ نے قرآن لکھا تھا،آپ قرآن مجید پڑھ رہے تھے، جب گردن کاٹی گئی تو خون کا پہلا قطرہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن