30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس کی بحث اذان کے بیان میں گزرگئی۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیلہ جنت میں سب سے بلندوبالا مقام ہے جو صرف حضور انور کے لیے ہے باقی سب کے لیے اس کے نیچے کے مقامات ہیں،حتی کہ فردوس والے جنتی بھی اس کے نیچے ہوں گے۔محشر میں مقام محمود ہی ہے اور اگر وہاں بھی وسیلہ ہے تو وہ دوسرا مقام ہے۔
۳؎ یہاں ارجو فرمانا بے علمی یا بے یقینی کی وجہ سے نہیں بلکہ تواضعًا ہے یا یوں کہو کہ کریم کی امید بھی یقینی ہوتی ہے۔
|
5768 -[30] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غيرَ فَخر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا ۱؎ تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان حضرات کا شفاعت والا۲؎ فخریہ نہیں فرماتا ہوں(ترمذی) |
۱؎ یہاں امام سے مراد نماز کا امام نہیں بلکہ سب سے آگے چلنے والا،سب کی طرف سے رب کی بارگاہ میں کلام کرنے والا،ہر کام میں سب پر پہل کرنے والا مراد ہے،حتی کہ جنت میں آگے آگے حضور صلی الله علیہ وسلم اور پیچھے سارے نبی داخل ہوں گے۔
۲؎ یعنی تمام نبیوں کی شفاعت ہم کریں گے بلندی درجات کی یا ان سب کی شفاعت کی ابتداء ہم سے ہوگی کہ پہلے ہم دروازۂ شفاعت کھول دیں گے پھر ہمارے بعد دوسرے نبی شفاعت کریں گے۔
|
5769 -[31] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:"إِن لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّيَ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ثُمَّ قَرَأَ:[إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمنُوا وَالله ولي الْمُؤمنِينَ]. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہر نبی کے بعض نبی قریب تر ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے قریبی میرے باپ میرے رب کے خلیل ہیں ۲؎ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ لوگوں میں ابراہیم سے قریب ترین وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے۳؎ اور الله والی ہے مؤمنوں کا ۴؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی حضرات انبیاءکرام میں ہر نبی کو کسی دوسرے نبی سے خاص قرب خاص مناسبت ہوتی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو نوح علیہ السلام سے مناسبت ہے جلالت میں اور کفار کو ہلاک کرانے میں یا عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام سے تارک الدنیا ہونے میں۔
۲؎ یعنی میں صورۃً سیرۃً اخلاقًا حضرت ابراہیم سے بہت ہی مناسبت رکھتا ہوں حتی کہ حضور کا دین اسلام بھی ملت ابراہیم کہلاتا ہے،رب فرماتاہے:"قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیۡفًا"حتی کہ حضور انور نے فرمایا کہ بالکل جناب ابراہیم کی ہم شکل ہوں جو انہیں دیکھنا چاہے وہ مجھے دیکھ لے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع