30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحبزدی ام کلثوم کا نکاح تم سے کردوں بشرطیکہ وہ ہی مہر ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا، چنانچہ حضرت ام کلثوم کا نکاح آپ سے کر دیا۔دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں اس لیے آپ کو ذو النورین کہا جاتا ہے یعنی دو نور والے۔معلوم ہوا کہ حضور بھی نور ہیں اور آپ کی اولاد بھی نور۔ حضرت ام کلثوم کی وفات پر فرمایا کہ اگر میری ایک سولڑکیاں ہوتی تو یکے بعد دیگرے تمہارے نکاح میں دے دیتا۔ (مرقات)
۱۰؎ یعنی حضرت عثمان غنی کے کفار مکہ پر بہت احسانات تھے اور وہ لوگ اپنے محسن کا احترام کرتے تھے اس لیے حضور انور نے ان کو اپنا نمائندہ بنا کر صلح کی بات چیت کرنے وہاں بھیجا،اگر کوئی اور شخص ایسا بااثر ہوتا تو حضور اسے ہی بھیجتے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو حضرت عثمان پر بہت ہی اعتماد تھا کہ اعتماد والے ہی کو اپنا نمائندہ بنایا جاتا ہے۔آپ کی شہادت کی خبر پر ہی بیعت رضوان کا واقعہ پیش آیا اس کے باعث آپ ہی ہیں۔
۱۱؎ یعنی بیعت رضوان کے موقعہ پر آپ موجود تھے ہی نہیں،یہ بیعت مقام حدیبیہ میں ہورہی تھی اور حضرت عثمان اس وقت حضور انور کے بھیجے ہوئے مکہ معظمہ میں تھے۔یہاں مرقات نے لکھا کہ حضرت عمر کو بھیجنے کی صلاح ہوئی تھی مگر آپ نے یہ ہی معذرت کی کہ مکہ والوں پر میرا کوئی احسان نہیں جس کی وجہ سے وہ مجھ سے محبت کریں عثمان رضی الله عنہ کو بھیجا جائے۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے آپ کا استقبال کیا اور کہا کہ آپ عمرہ کرلیں آپ نے فرمایا حات انی اطوف فی غیبہ ناممکن ہے کہ میں کعبہ کا طواف بھی کروں حضور کی غیرموجودگی میں۔
۱۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو خبر تھی کہ حضرت عثمان شہید نہیں کیے گئے وہ مکہ میں بخیریت ہیں ورنہ بیعت لینے کے کیا معنی،یہ ہے حضور انور کا علم غیب ورنہ یہاں تو خبر اڑ چکی تھی کہ جناب عثمان شہید کردیئے گئے،دیکھو مرقات یہی مقام۔
۱۳؎ یعنی یہ جواب بھی اپنے گھر ساتھ لے جا خدا حسد سے بچائے،حاسد صفات کو عیوب جانتا ہے۔بیعت الرضوان کا واقعہ حضرت عثمان کی انتہا درجہ کی فضلیت بتارہا ہے،وہ خارجی اسے آپ کے عیوب میں گن رہا ہے۔سب کوشیطان گمراہ کرتا ہے مگر شیطان کو حسد نے گمراہ کیا۔
|
6081 -[13] وَعَن أبي سلهة مولى عُثْمَان رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْم الدَّار قُلْنَا: أَلا نُقَاتِل؟ قَالَ:لَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفسِي عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت عثمان کے مولٰی ابو سہلہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم حضرت عثمان سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان کا رنگ بدلنے لگا۲؎ پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں فرمایا نہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے ہوئے ہوں۳؎ |
۱؎ ابو سہلہ حضرت عثمان ابن عفان کے آزاد کردہ غلام تھے آپ کا نام اور آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے حضرت عثمان کے اس وقت مدینہ منورہ میں دو سو غلام موجود تھے۔
۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے شہادت عثمان کے ہر واقعہ کی حرف بہ حرف موبمو تفصیل وار خبر دے دی تھی یہ ہے حضور کا علم غیب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع