30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ تابعی ہیں،تیمی ہیں،حضرت ابوہریرہ عبدالله ابن عمر وغیرہم صحابہ سے ملاقات ہے،آپ سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور سفیان ثوری وغیرہم نے روایات لیں۔
۲؎ یہ مصری شخص کوئی خارجی دشمن حضرت عثمان تھا۔خیال رہے کہ مصریوں نے ہی حضرت عثمان کا گھر گھیرا تھا انہیں سے حضرت عثمان کی شہادت ہوئی،یہ آدمی حج کرنے مکہ معظمہ آیا تھا ادھر سے حضرت عبدالله ابن عمر اور بہت سے قرشی حضرات مدینہ منورہ سے حج کرنے مکہ معظمہ پہنچے ہوئے تھے کہ یہ اس جماعت کے پاس پہنچا۔
۳؎ یعنی آپ صحابی بھی ہیں حضرت عمر کے فرزند ارجمند بھی،بڑے عالم بھی،قرآن کریم کے ماہر بھی اور یہ واقعات جن کے متعلق میں پوچھنا چاہتاہوں آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
۴؎ اس مردود کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عثمان احد کے دن غزوہ سے فرار ہوگئے تھے اور جہاد میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنا بڑا گناہ ہے یہ گناہ حضرت عثمان نے کیا۔
۵؎ یعنی غزوہ بدر اور بیعۃ الرضوان الله تعالٰی کی بڑی ہی نعمتیں ہیں ان دونوں سے حضرت عثمان محروم رہے کہ نہ بدر میں حاضر ہوئے نہ بیعۃ الرضوان میں۔
۶؎ اس بدنصیب کا الله اکبر کہنا نہ تو الله تعالٰی کی عظمت بیان کرنے کے لیے تھا نہ ذکر الله کے لیے بلکہ اپنی بے دینی پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے کہ ہم قتل عثمان میں حق بجانب ہیں ہم نے انہیں قتل کیا ٹھیک کیا یہ حمد الٰہی نہ تھی اپنے کفر کا اظہار تھا۔معلوم ہوا کہ کبھی الله کا ذکر حرام بلکہ کبھی کفر بھی ہوجاتا ہے الله کے ذکر کے لیے نیت خیر چاہیے۔
۷؎ یعنی ابھی الله اکبر نہ کہہ خوشی نہ منا ان سب باتوں کے جواب بھی سنتا جا۔
۸؎ آپ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوْا مِنۡکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ اِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوۡا وَلَقَدْ عَفَا اللہُ عَنْہُمْ"حضرت عثمان ہی نہیں بلکہ سواء دس بارہ حضرات کے باقی سب کے قدم اکھڑ گئے تھے حالات ہی ایسے ہوگئے تھے۔درہ والے حضرات کی غلطی سے درہ خالی رہ گیا کفار مکہ نے پیچھے سے حملہ کردیا،پیچھے کا حملہ بہت سنگین ہوتا ہے،قدم اکھڑ گئے رب تعالٰی نے خطا کی معافی کا اعلان قرآن کریم میں فرمادیا،جس خطا کی معافی کا اعلان رب فرما دے وہ ہماری عمر بھر کی عبادات سے افضل ہے،جن کی قبولیت کی کوئی خبر نہیں پھر اس پر طعن کرنا بے ایمانی ہے جیسے کوئی آدم علیہ السلام پر گندم کھانے کا طعن کرے وہ بے دین ہے۔
۹؎ یعنی عثمان غنی غزوہ بدر سے غائب نہیں رہے وہ بدر میں تھے جہاد کررہے تھے،مدینہ منورہ میں ان کا گھر ان کے لیے بدر کا میدان تھا اور اپنی زوجہ یعنی رقیہ بنت رسول الله کی خدمت ان کے لیے بدر کا جہاد تھا۔یہ ہے اس شہنشاہ کے اختیارات خداداد کے عثمان غنی کے لیے مدینہ منورہ بلکہ حضرت عثمان کا گھر بدر بنادیا اگر وہ چاہیں تو ہمارے لیے پاکستان کی زمین کو مدینہ بنادیں ؎
بنادو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ
سینہ میں جو آجاؤ بن آئے مرے دل کی سینہ تو مدینہ ہو دل اس کا ہو شیدائی
یہ دل ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن پھر طیبہ و کعبہ کی پہلو میں ہویک جائی
حضرت رقیہ اس مرض میں وفات پاگئیں عثمان غنی بہت ہی روئے،حضور نے پوچھا عثمان کیوں روتے ہو عرض کیا میں حضور کی دامادی سے محروم ہوگیا ہوں،فرمایا کہ مجھ سے جبریل امین نے فرمایا ہے کہ حکم رب العالمین یہ ہے کہ میں اپنی دوسری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع