30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور مسجد نبوی دونوں میں آپ کی زمین شامل ہے۔(مرقات)حضورصلی الله علیہ و سلم نے مسلمانوں کو گواہ بنایا کہ میں عثمان کے لیے اس کی عوض جنت کے گھر کا ضامن ہوں۔
۸؎ یعنی مسجد نبوی شریف کا وہ الحاقی حصہ جو میرے گھر سے بالکل متصل ہے تم مجھے اس میں بھی دو رکعت نہیں پڑھنے دیتے چہ جائیکہ ریاض الجنت یا منبر کے پاس نماز پڑھ سکوں،آپ اس محاصرہ کے زمانہ میں مسجد نبوی شریف میں آنے کے لیے ترس گئے تھے۔
۹؎ غزوہ تبوک میں جانے والے لشکر اسلام کی سامان کی فہرست ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی کہ آپ نے کل اونٹ نو سو پچاس گھوڑے پچاس اور کل دینار دس ہزار دیئے۔لشکر کی تعداد میں اختلاف ہے چالیس ستر ہزار یا ایک لاکھ۔معلوم ہوا کہ ضرورۃً اپنے نیک اعمال کا اعلان کرنا لوگوں سے ان کا اقرار کرانا جائز ہے تاکہ وہ ستانے سے باز آجائیں۔
۱۰؎ ثبیر بروزن زبیر ایک شخص کا نام تھا ،چونکہ وہ اس پہاڑ پر دفن کیا گیا تھا اس لیے اس پہاڑ کا نام بھی ثبیر ہوگیا۔یہ مکہ معظمہ کا بہت بڑا پہاڑ ہے جو مکہ سے شروع ہوکر منیٰ میں پہنچتا ہے دونوں جگہ سے نظر آتا ہے اس لیے بعض لوگوں نے اسے مکہ معظمہ کا پہاڑ کہا ہے،بعض نے منیٰ کا دونوں قول درست ہیں۔جبل نور جس میں غار حرا واقع ہے اس مقابل کے سے یہ پہاڑ ثبیر بھی گزرتا ہے۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)
۱۱؎ پہاڑ کیوں ہلا اس میں بہت قول ہیں۔قوی اور ظاہر تر قول یہ ہے کہ حضور انور کے قدم پڑنے سے اسے شوق و محبت میں وجد آگیا یہ حرکت اس کی وجدانی حالت تھی،ہوا چلتی ہے شاخیں ہلتی ہیں حضورصلی الله علیہ و سلم کے قدم پڑتے ہیں پتھر اور پہاڑ ہلتے ہیں،قرآن کریم میں سارے صفات نور،ہدایت،شفا پہلے ہی سے تھی مگر حضور انور پر نازل ہونے سے اس میں مکی مدنی ہونے کی صفت پیدا ہوئی،اس میں درد سوزوگداز پیدا ہوا کہ لوگ اسے سن کر بغیر سمجھے ہوئے بھی تڑپتے ہیں"تَرٰۤی اَعْیُنَہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ"جیسے بیٹری جب کسی مشین سے چارج ہو جاوے تو اس میں پاور پیدا ہوجاتی ہے،یہ حدیث حضرات صوفیاء کے وجدان کے حال آنے کی اصل ہے۔
۱۲؎ پہاڑ کے نچلے حصے کو حضیض کہتے ہیں،اونچی چوٹی کو ذروہ یعنی وہ پہاڑ ایسا زور سے ہلا کہ اس کے پتھرپہاڑ کے نیچے گر گئے۔جو لوگ صوفیاء کے وجد پر اعتراض کرتے ہیں ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہیں"فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً"۔
۱۳؎ معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں دانائی سمجھ بوجھ اور عشق رسول کی لگن ہے اس لیے حضور انور نے اسے ایڑی بھی ماری اور اس سے کلام بھی کیا وہ اس خطاب سے ٹھہر بھی گیا۔
۱۴؎ حضور صلی الله علیہ و سلم نبی بلکہ نبیوں کے سردار حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ یعنی قول و فعل حال و قال کے سچے اور حضرت عمر و عثمان دونوں شہید۔خیال رہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید ہے یعنی نیزہ یا تلوار سے زخمی ہو کر وفات پانے والے ورنہ حکمی شہید تو خود حضور صلی الله علیہ و سلم بھی ہیں اور حضرت ابوبکر بھی کہ حضور انور نے خیبر والے زہر سے اور جناب ابوبکر نے غار ثور والے سانپ کے زہر سے وفات پائی،ان دونوں میں سے حضرت عمر شہید حقیقی ہیں مگر غیرفقہی اور حضرت عثمان شہید حقیقی بھی ہیں فقہی ہیں۔
۱۵؎ اللھم نعم کے معنی یہ ہیں کہ الٰہی ہم کو کوئی جواب بن نہیں پڑتا سوائے اقرار کے اور اس کے کہ ہم کہیں ہاں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع