30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ حضور انور نے خیال فرمایا کہ یہ بیعت بڑی ہی عظمت و عزت کا ذریعہ ہے اس کا چرچہ قرآن میں آوے گا اور تاقیامت رہے گا،اس سے میرا عثمان محروم نہ رہے تو سب کو دکھا کر فرمایا کہ میرا ایک ہاتھ عثمان کا ہے اور دوسرا ہاتھ میرا اور میں خود عثمان کی طرف سے اپنے سے بیعت کرتا ہوں حضور کو یہ بھی علم غیب تھا آپ مکے میں شہید نہیں کیے گئے خود مرید خود مراد۔
مصرع خود کوزہ گر خود کوزہ خود گل گوزہ
|
6075 -[7] وَعَن ثُمامة بن حَزْنٍ الْقشيرِي قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. قَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ قَالَ:«اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ».قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت ثمامہ ابن حزن قشیری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں دار کے دن حاضر تھا۲؎ جب کہ ان پر حضرت عثمان نے جھانکا فرمایا میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مدینہ میں تشریف لائے یہاں سوا رومہ کنویں کے میٹھا پانی نہ تھا۳؎ تو فرمایا کہ کون رومہ کنواں خریدے اوراپنا ڈول مسلمانوں کے ڈولوں کے ساتھ کردے بعوض جنت کی اس نعمت کے جو اس سے اچھی ہے۴؎ تو اسے میں نے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا۵؎ اور تم آج مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو حتی کہ میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں۶؎ لوگ بولے ہاں ضرور پھر فرمایا کہ میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آل فلاں کا علاقہ کون خریدے گا کہ اسے مسجد میں بڑھا دے جنت کی اس نعمت کی عوض جو اس سے بہتر ہے میں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا۷؎ مگر تم آج مجھے اس میں دو رکعت پڑھنے سے روکتے ہو۸؎ لوگ بولے ہاں ضرور انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے مال سے تنگی والے لشکر کو سامان دیا ۹؎ لوگ بولے ہاں ضرور فرمایا میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مکہ معظمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے۱۰؎ اور حضور کے ساتھ ابوبکر اور عمر اور میں تھا تو پہاڑ ہلا ۱۱؎حتی کہ اس کے پتھر نیچے گر گئے۱۲؎ تو اسے حضور نے اپنے پاؤں سے ایڑی ماری فرمایا اے ثبیر ٹھہر جا۱۳؎ کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں۱۴؎ لوگ بولے ہاں ضرور۱۵؎ آپ نے فرمایا الله اکبر قسم رب کعبہ کی انہوں نے گواہی دے دی میں شہید ہوں یہ تین بار کہا ۱۶؎ (ترمذی،نسائی، دار قطنی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع