30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس فرمان عالی میں حضرت عثمان غنی کو تین بشارتیں دی گئیں: ایک یہ کہ ان کے سارے گذشتہ گناہ اور خطائیں معاف ہوگئیں ان کا آج کا یہ عمل ان کا کفارہ بن گیا۔دوسرے یہ آئندہ وہ گناہوں سے محفوظ رہیں گے۔تیسرے یہ کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔(از مرقات)یہ ہے حضورصلی الله علیہ و سلم کا علوم خمسہ پر مطلع ہونا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے اعلان تو چھ سو کا کیا تھا مگر دیئے نو سو پچاس اونٹ،پھر ہزار کے تکملہ کے لیے پچاس گھوڑے مع سازو سامان کے حاضر کیے اس طرح کل ایک ہزار سواریاں اور ایک ہزار اشرفیاں حاضر کیں۔
|
6074 -[6] وَعَن أنسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا من أَيْديهم لأَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے بیعت الرضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے قاصد تھے ۱؎ مکہ کی طرف حضور نے لوگوں سے بیعت لی۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عثمان الله کے اور اس کے رسول کے کام میں گئے ہیں۳؎ پھر حضور نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا ہاتھ عثمان کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہوگیا جو ان کے اپنے لیے تھا۴؎ (ترمذی) |
۱؎ جیسے کفار مکہ کی طرف سے کچھ نمائندے حضور کی خدمت میں صلح کی بات چیت کرنے آئے تھے یوں ہی حضرت عثمان حضور کی طرف سے کفار مکہ کے پاس صلح کی بات کرنے گئے کیونکہ کفار پر ان کے بہت احسانات تھے وہ لوگ آپ کا احترام کرے تھے،ادھر لشکر اسلام میں یہ افواہ پھیل گئی کہ کفار مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کردیا اس پر حضور نے سب مسلمانوں سے بیعت جہاد لی کہ یہ بیعت حضرت عثمان کے لیے ہی لی گئی۔اسے بیعۃ الرضوان اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے متعلق رب نے فرمایا: "لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"گویا یہ بیعت رضا الٰہی کا تمغہ ملنے کا ذریعہ تھی۔
۲؎ یہ بیعت بیعت جہاد تھی حضور انور نے لوگوں سے اسلام پر بھی بیعت لی ہے نیک اعمال کرنے پر بھی اور گناہوں سے بچنے پربھی کسی سے سوال نہ کرنے پربھی اورکسی خاص عمل پر بھی،یہ بیعت یہ ہی آخری بیعت تھی یعنی خاص عمل پر۔یہ بیعتیں موجودہ مروّجہ بیعتوں کی اصل ہیں جو اولیاء الله سے کی جاتی ہیں۔
۳؎ یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں،الله تعالٰی ضرورت سے پاک ہے بلکہ بمعنی کام یا خدمت ہے۔چونکہ حضور انورصلی الله علیہ و سلم کو فنا فی الله کا درجہ حاصل تھا اس لیے حضور کا کام الله کا کام ہے ورنہ حضرت عثمان حضور کے کام کے لیے گئے تھے۔ (مرقات)روایات میں ہے کہ کفار نے حضرت عثمان سے کہا کہ کعبہ حاضر ہے آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت ہے آپ خوب طواف عمرہ کریں سنگِ اسود کو بوسے دیں،حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں حضور انور کے بغیر کعبہ کو دیکھوں گا بھی نہیں۔چنانچہ آپ کعبہ میں نہیں گئے یہاں صحابہ نے حضورصلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عثمان تو خوب عمرہ کریں گے حضور نے فرمایا کہ میرا عثمان میرے بغیر نہ عمرہ کرے گا نہ طواف یہ ہے حضرت عثمان کا ایمان کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دولہا کے بغیر برات کیسی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع