30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ان دونوں صاحبوں کی آمد پر حضور انور نے کوئی تکلف نہیں فرمایا اسی طرح بے پرواہی سے آرام فرما رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات باریاب بارگاہ اور صاحب اسرار بے تکلف محبوب ہیں۔
۳؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہو رہا ہے کہ ران شریف کھلی ہوئی نہ تھی بلکہ اس سے قمیض ہٹی ہوئی تھی ورنہ ارشاد ہوتا سترھا اسے ڈھک لیا۔اس سوی ثیابہ نے کاشفًا کے معنی واضح کر دیئے کہ وہاں قمیض ہٹانا مراد تھا نہ کہ بالکل برہنہ ہونا۔
۴؎ یعنی اس فرق کی وجہ کیا ہے یہ تینوں حضرات حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے خاص خدام ہیں پھر برتاوے میں یہ فرق کیوں ہے۔
۵؎ سبھی فرشتے بھی حضرت عثمان سے شرم کرتے ہیں ان کی توقیروتعظیم کا اہتمام فرماتے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ کا عقد فرمایا تو حضرت عثمان بھی وہاں موجود تھے ان کے سینے سے کرتہ ہٹ گیا تو وہاں کے موجود فرشتے اس مجلس سے ہٹ گئے،حضور انور نے ملائکہ سے ہٹنے کی وجہ پوچھی انہوں نے کہا حضرت عثمان سے ہم کو شرم آتی ہے،حضرت عثمان کی شرم و حیاء کا یہ حال تھا کہ آپ غسل خانہ میں تہبند باندھ کر غسل کرتے تھے صرف اوپر کا بدن برہنہ ہوتا تھا تب بھی آپ سیدھے نہ بیٹھتے تھے شرم سے جھکے ہوئے ہی غسل فرماتے تھے۔(مرقات)آپ نے کبھی اپنی شرم گاہ کو نہ دیکھا،اس چمن کے ہر پھول کا رنگ و بو علیحدہ ہے۔
۶؎ یعنی اگر ہم حضرات ان کے سامنے اسی بے تکلفی سے لیٹے رہے تو وہ اتنے شرمیلے ہیں کہ یہاں نہ بیٹھ سکیں گے نہ مجھ سے بات کرسکیں گے نہ وہ عرض پوری کرسکیں گے جس کے لیے ملنے وہ یہاں آئے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی مولٰی میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہے توکل قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم و حیاء کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہوکر حساب نہ دے سکے گا۔چنانچہ پہلے حساب ابوبکر کا ہوگا پھر عمر کا پھر علی کا پھر دوسروں کا حضرت عثمان کا حساب ہوگا ہی نہیں۔(مرقات)
|
6070 -[2] عَن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجنَّة عُثْمَان» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اللہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتاہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان ہیں ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ فی الجنۃ کسی راوی کی تفسیر ہے یعنی میرے خصوصی ساتھی حضرت عثمان ہوں گے ورنہ مطلقًا ساتھی اور بہت سے خوش نصیب حضرات بھی ہوں گے۔چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ میرے خاص دوست ابوبکر و عمر ہوں گے۔مرقات)
|
6071 -[3] وَرَاه ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطع |
اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں ۱؎ اور یہ منقطع ہے۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع