30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب مناقب عثمان غنی رضی اللہ عنہ
حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ ۱؎
۱؎ آپ کا نام عثمان ابن عفان ابن ابی العاص ابن امیہ ابن عبد الشمس ابن عبدمناف ہے،آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے،لقب ذوالنورین، خطاب جامع القرآن،آپ یکم محرم ۲۴ھ چوبیس میں تخت خلافت پر جلوہ گر ہوئے،بارہ سال خلافت کی،بیاسی سال عمر پائی،آپ کے حالات جلد اول کے شروع میں بیان ہوچکے ہیں وہاں مطالعہ فرماؤ۔
|
6069 -[1] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ - أَوْ سَاقَيْهِ - فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَان فَجَلَست وسوَّيت ثِيَابك فَقَالَ: «أَلا أستحي من رجل تَسْتَحي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجته» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا اپنی پنڈلیاں کھولے ۱؎ تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات چیت کی،پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی۲؎ پھر انہوں نے بھی بات چیت کی،پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے۳؎ جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان آئے پھر تو آپ بیٹھ گئے۴؎ اور اپنے کپڑے درست کرلیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۵؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچاسکیں گے۶؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی بے پرواہی سے لیٹے ہوئے تھے جس سے آپ کی پنڈلیاں یا ران شریف کھلی تھیں۔خیال رہے کہ حضرت امام مالک کے نزدیک مرد کی ران ستر نہیں باقی آئمہ کے ہاں یہ ستر ہے،حضرت امام مالک کی دلیل یہ حدیث ہے مگر یہ استدلال کچھ ضعیف سا ہے کیونکہ اول تو خود راوی کو شک ہے کہ ران کھلی تھی یا پنڈلی اس شک کے ہوتے ہوئے استدلال درست کیسے ہوسکتا ہے اور اگر مان بھی لیا جائے کہ ران کھلی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بالکل ننگی تھی،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ران سے قمیض ہٹی ہوئی تھی تہبند شریف اس جگہ پر تھا۔عاری اور کاشف میں بڑا فرق ہے۔ (مرقات،اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع