30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی ہیں ان کے مرید بھی مگر سلطان کی بیعت بیعت حکومت تو ہے بیعت ارادت نہیں اور مسلمانوں کو کسی مرشد کا بیعت ہونا ہوگا،جانشینی رسول کا عہدہ ختم ہوگیا،سلطنت اسلامیہ بھی الله کی بڑی نعمت ہے۔گذشتہ کتب میں حضور کی صفات میں یہ بھی ذکر تھا کہ ملکہ بالشام اور ظاہر ہے کہ شام میں سلطنت امیر معاویہ کی ہی قائم ہوئی اسے حضورصلی الله علیہ و سلم کی سلطنت قرار دیا گیا۔
۷؎ یہ حدیث ابوداؤد نے کچھ فرق سے روایت کی ہے۔مسند امام احمد میں ہے کہ خود حضورانور نے یہ خواب دیکھا مگر اس میں یوں ہے کہ میں اپنی ساری امت سے تولا گیا تو میں وزنی ہوا،پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ ،پھرعمر رضی اللہ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ ،باری باری سے میری ساری امت سے تولے گئے تو ان میں سے ہر ایک ساری امت سے وزنی ہوا پھر ترازو اٹھالی گئی،اس میں اشارہ اسی جانب ہے کہ ان تین خلافتوں پر ساری امت کا اجماع ہوگا۔(مرقات)
|
6067 -[12] عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَاطَّلَعَ عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم پر ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا تو حضرت ابوبکر ظاہر ہوئے پھر فرمایا کہ تم پر ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا توحضرت عمر نمودار ہوئے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس سے ان دونوں حضرات کا جنتی ہونا معلوم ہوا۔خیال رہے کہ یہ حدیث ان دونوں بزرگوں کی فضیلت بیان فرما رہی ہے نہ کہ افضلیت،چونکہ جنت کی بشارت اور صحابہ کرام کو بھی دی گئی ہے،چونکہ اس حدیث میں دونوں کا جنتی ہونا مذکور ہے اس لیے یہ حدیث یہاں لائے۔(اشعہ)
|
6068 -[13] وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حجري لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ:«نَعَمْ عُمَرُ».قُلْتُ:فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا سر مبارک ایک چاندنی رات میں میری گود میں تھا ۱؎ کہ بولی یارسول الله کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہوں گی۲؎ فرمایا ہاں وہ حضرت عمر ہیں۳؎ میں بولی تو جناب ابوبکر کی نیکیاں کہاں گئیں۴؎فرمایا کہ حضرت عمر کی ساری نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی کی طرح ہیں۵؎ (رزین) |
۱؎ ضاحیۃ بنا ہے ضحو سے بمعنی چمکدار روشن۔اس سے مراد وہ رات ہے جس میں چاندنی ہو اور بادل نہ ہو، آسمان صاف ہو،چاند خوب چمک رہا ہو۔حضرت عائشہ صدیقہ کی گود اس وقت عرش معلی سے افضل ہوگئی ہوگی کہ وہ صاحب قران صلی الله علیہ وسلم کی رحل نبی رضی الله عنہا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع