30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنکھ دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی،کان سننے سے سیر نہیں ہوتے ایسے ہی یہ دونوں مجھے دیکھنے میری سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ (لمعات،مرقات،اشعہ)ان کا عقیدہ تو یہ ہے۔شعر
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا حقیقت معرفت اہلِ طریقت اس کو کہتے ہیں
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
ان دونوں نے دیکھا تو حضور کو اور سنی تو حضور کی،یہ وہ جسم ہیں جن کی جان حضور ہیں رضی الله تعالٰی عنہما۔آنکھیں و کان سارے اعضاء سے افضل ہیں،رب فرماتا ہے:" وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصٰرَ وَ الْاَفْـِٕدَۃَ"یوں ہی سارے اہل اسلام میں یہ دونوں افضل ہیں۔کان افضل ہیں آنکھ سے کہ آنکھ کے بغیر علم حاصل کیا جاسکتا ہے مگر کان کے بغیر نہیں اس لیے کان کا ذکر پہلے فرمایا آنکھ کا بعد میں۔(مرقات)
|
6065 -[10] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر اس طرح کہ ان کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ۱؎ مگر ہمارے آسمانی دو وزیر جبریل اور میکائل ہیں۲؎ اورہمارے زمین والوں میں سے دو وزیر ابوبکر و عمر ہیں۲؎ (ترمذی)۴؎ |
۱؎ وزیر جو بادشاہ کی سلطنت کا بوجھ اٹھائے،اسے اچھے مشورے دے،اس کا صاحب راز ہو۔یہ لفظ بناہے وزر بمعنی بوجھ سے"لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"۔
۲؎ حضور آسمانوں کے بھی بادشاہ ہیں اور زمین کے بھی۔آسمانی سلطنت کا انتظام حضرت جبریل و میکائیل کرتے ہیں،حضور کے احکام وہاں نافذ کرتے ہیں۔ترتیب ذکری سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت جبریل درجہ میں جناب میکائیل سے بہت بڑے ہیں کہ ان کا ذکر پہلے فرمایا۔
۳؎ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱)حضور صلی الله علیہ و سلم کی سلطنت زمین میں بھی ہے آسمان میں بھی ورنہ دونوں جگہ وزیر ہونے کے کیا معنی بلکہ حضور عالمین کے سلطان بادشاہ اور نبی ہیں"لِیَکُوۡنَ لِلْعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا"۔(۲)حضر ت ابوبکر صدیق جناب عمر فاروق سے افضل ہیں کہ پہلے ان کا نام شریف ارشاد ہوا بعد میں حضرت عمر کا۔(۳)وزارت صدیقی وفاروقی افضل واعلٰی ہے وزارت جبریلی و میکائیلی سے کہ حضرت صدیق و فاروق پایہ تخت کے وزیر ہیں،ہر دم حضور کے ساتھ رہنے والے،زمین تمام انبیاءخصوصًا حضور صلی الله علیہ و سلم کا پایہ تخت ہے "اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً"۔
۴؎ یہ حدیث حاکم نے حضرت ابو سعید خدری سے،حکیم ترمذی نے حضور ابوہریرہ سے،ابن عساکر نے حضرت ابوذر غفار سے،حافظ ابوالحسن علی ابن نعیم بصری نے حضرت انس ابن مالک سے بالفاظ مختلف روایت کی اور امام سمرقندی نے خواجہ حسن بصری سے روایت کیا کہ ساق عرش پر لکھا ہے"لا الہ الا الله محمد رسول الله وزیراہ ابوبکر و عمر۔ (مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع