30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6062 -[7] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب مسجد میں تشریف لاتے تو سوائے ابوبکر و عمر کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتاتھا ۱؎ یہ دونوں حضرات حضور کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور حضور انہیں دیکھ کر مسکراتے تھے۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ حضور کی مجلس اقدس میں سب لوگ نیچے سر نیچی نگاہ کیے خاموش بیٹھتے تھے جیسے پرندوں کا شکاری بالکل خاموش سکون سے بیٹھتا ہے یہ تھا اس بارگاہ کا ادب۔
۲؎ پیارا پیارے کو دیکھ کر خوشی سے مسکراتا ہے یہاں وہ رنگ تھا دوسرے صحابہ میں ادب کا ظہور ہے یہاں محبوبیت کا جلوہ گری یعنی یہ دونوں صاحب اسرار اور بارگاہ عالی میں بہت باریاب تھے۔
|
6063 -[8] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم ایک دن نکلے اور مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکر و عمر بھی ان دونوں میں سے ایک صاحب آپ کے داہنی طرف تھے دوسرے بائیں طرف حضور ان دونوں کے ہاتھ پکڑے تھے تو فرمایا ہم یہ قیامت کے دن ایسے ہی اٹھائے جائیں گے ۱؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہے جسے قیامت میں حضور انور کا قرب نصیب ہوجاوے تو جو حضور انور کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بارگاہ الٰہی میں پیش ہو اس کے مقدمہ کا کیا پوچھنا۔اس حدیث میں اپنی قبور کا بھی پتہ دے دیا گیا ہے۔شعر
میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو کہ رستہ میں ہیں جا بجا تھانے والے
اس لحاظ سے بھی بعد انبیاء ساری مخلوق میں سب سے بڑے خوش نصیب یہ دونوں حضرات ہیں جنہیں حضور انور سے دنیا میں قبروں حشر میں ایسا قرب نصیب ہے۔
|
6064 -[9] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن حنطب سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے جناب ابوبکر و عمر کو دیکھا تو فرمایا یہ کان اور آنکھیں ہیں ۱؎ (ترمذی،مرسلًا) |
۱؎ اس فرمان عالی پر چار شرحیں ہوسکتیں ہیں: (۱)یہ دونوں مسلمانوں کے کان و آنکھیں ہیں کہ جیسے انسان بغیر کان و آنکھ سے کچھ نہ دیکھ سکے نہ سن سکے ایسے ہی مسلمان ان کا دامن چھوڑ کر نہ راہِ ہدایت دیکھ سکے نہ قرآن و حدیث،نہ الله رسول کی بات سن سکے(۲)یہ دونوں دین اسلام کی آنکھیں اور کان ہیں کہ جیسے جسم کی تکمیل آنکھوں کانوں سے ہوتی ہے ایسے ہی دین کی تکمیل ان بزرگوں سے ہے قرآن و حدیث ان کے ذریعہ سے سمجھو(۳)یہ دونوں میرے کان و آنکھ ہیں جیسے ہرشخص کو اپنے آنکھ کان بڑے پیارے ہوتے ہیں کہ ان دونوں کی ہر طرح حفاظت کرتا ہے ایسے ہی یہ دونوں میرے پیارے وزیر ہیں مجھے بڑے محبوب ہیں،اعلیٰ وزیر بادشاہ کی آنکھ کان ہوتے ہیں اس معنی کی تشریح اگلی حدیث میں آرہی ہے(۴)یہ دونوں سراپا آنکھ و کان ہیں جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع