دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎  جوانی اور بڑھاپے کے درمیانی زمانہ کو کہولت کہا جاتا ہے یعنی تیس سال کے بعد سے پچاس سال تک عمر۔مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو لوگ اس عمر میں فوت ہوئے اور وہ تھے جنتی ان سب کے سردار یہ دونوں ہیں ورنہ جنت میں سارے جنتی جوان تیس سالہ ہوں گے کوئی بوڑھا یا ادھیڑ عمر نہ ہوگا،عورتیں اٹھارہ سالہ ہمیشہ یہ ہی عمر رہے گی کہ وہاں دن رات مہینے سال نہیں گزرتے جیسے"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ"حالانکہ بعد بلوغ انسان یتیم نہیں رہتا۔

۲؎  رسول تین سو تیرہ ہیں،مرسلین چار،ان میں اکثر رسول ادھیڑ عمر میں وفات یافتہ ہوئے یعنی رسولوں کے بعد ان دونوں کا درجہ ہوگا،یہ حضرات ان ادھیڑ جنتیوں سے افضل ہیں جو نبی نہ ہوں کیونکہ کوئی غیر نبی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا جیسے کوئی غیرصحابی صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا اور جب یہ دونوں حضرات جنتی ادھیڑوں سے افضل ہوئے تو جنتی جوانوں بچوں سے بھی افضل ہوئے۔(مرقات)چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ھما سید کھول اھل الجنۃ وشبانھا بعد النبیّین والمرسلین، ایک روایت میں ہے کہ حضور نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوبکر و عمر  جنتی جوانوں بوڑھوں سے افضل ہیں مگر تم انہیں یہ خبر نہ دینا چنانچہ حضرت علی نے ان دونوں بزرگوں کی وفات کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی۔(مرقات)ان حضرات کی یہ سرداری حضرات حسنین کریمین کی سرداری کے خلاف نہیں کیونکہ دونوں سرداریوں کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ضلع کا افسراعلیٰ ڈپٹی کمشنر بھی ہوتا ہے اور ایس پی بھی مگر الگ الگ نوعیتوں سے۔

6061 -[6]

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ؟فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بكر وَعمر ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نہیں جانتا کہ تم میں میری بقاء کتنی ہے ۱؎  تو میرے بعد والوں کی پیروی کرو ابوبکروعمر کی۲؎ (ترمذی)

۱؎  لفظ لا ادری حضور کی اپنی بے خبری کے لیے نہیں ہے بلکہ لوگوں کی اطلاع نہ دینے کے لیے ہے ورنہ حضور انور کو اپنی وفات کی بھی خبرتھی اور دوسروں کی وفات کی بھی اس لیے حضور نے حج کی فرضیت کے سال حج نہ کیا اگلے سال کیا کہ آپ کو خبرتھی کہ اس سال ہماری وفات نہیں ورنہ فرض یہ ہے کہ حج فرض ہوتے ہی حج کرے۔حضرت سعد بہت بیمار ہوئے ان سے فرمایا کہ تم اس بیماری سے مرو گے نہیں۔خیال رہے کہ درایت عقل سے جاننے کو کہتے ہیں،علم اس سے عام ہے۔اس کی بحث ہماری کتاب جاء الحق میں حصہ اول میں ہے دیکھو۔حضور نے فاطمہ زہرا اور اپنی زوجہ مطہرہ زینب کی وفات کی خبردی،غزوہ بدر میں ایک دن پہلے بتادیا کہ کل یہاں فلاں کافر مرے گا یہاں فلاں،عقلی علوم بتائے جاتے ہیں کشفی علوم اکثر چھپائے جاتے ہیں۔

۲؎  اس میں ان بزرگوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے کہ میرے بعد یہ حضرات خلیفہ ہوں گے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت بلا فصل قرآن کریم میں بھی مذکور ہے"سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ"اس آیت میں جنگ یمامہ کا ذکر ہے جو خلافت صدیقی میں ہوئی،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر۔

6062 -[7]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب مسجد میں تشریف لاتے تو سوائے ابوبکر و عمر کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتاتھا ۱؎ یہ دونوں حضرات حضور کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور حضور انہیں دیکھ کر مسکراتے تھے۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن