30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی حضور انور نے تم دونوں کے نام اپنے نام سے ملائے تمہارے کام اپنے متصل رکھے۔نام و کام کے متصل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام بھی متصل ہیں نام و کام پتہ دیتے ہیں مقام کا اور الله تعالٰی نے حضور انورصلی الله علیہ و سلم کے نام و کام کو اپنے نام سے متصل کیا ہے تو آپ کو رب سے بھی بہت قرب ہے۔
۴؎ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ اکثر حضرت عمر کی بہت تعریف کرتے تھے حتی کہ فرماتے تھے کہ اب زمین پر ایسا شخص نہ رہا کہ جس کے اعمال کی میں تمنا کروں اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے آرزو ہے کہ میں رب تعالٰی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سے نیک اعمال لے کر ملوں۔
|
6058 -[3] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِن أهل الْجنَّة ليراءون أهلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا».رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَى نَحْوَهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جنتی لوگ علیّین والوں کو دیکھیں اور دکھائیں گے جیسے تم کنارہ آسمان پر چمک دار تارے کو دیکھتے ہو ۱؎ اور ابوبکروعمر انہیں میں سے ہیں اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں۲؎ اور ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔ |
۱؎ علیّین ایک دفتر کا نام بھی ہے اور جنت کے اعلیٰ درجہ کا نام بھی،قرآن مجید میں دفتر کو علیّون فرمایا گیا"وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا عِلِّیُّوۡنَ کِتٰبٌ مَّرْقُوۡمٌ"۔یہاں جنت کے اعلیٰ درجہ کو مراد لیا گیا ہے جیسے سجّین دفتر کانام بھی ہے جس میں دوزخیوں کے نام تحریر ہیں اور دوزخ کے سب سے نیچے حصہ کا نام بھی،یعنی علیّین جنت کے درجوں سے ایسا اونچا ہے جیسا آسمان زمین سے اونچا اور علیّین والے دوسرے جنتیوں کو ایسے نظر آئیں گے جیسے زمین والوں کو تارے نظر آتے ہیں وہ ایک دوسرے کو دکھائیں گے دیکھو وہ ہیں حضرت صدیق وہ ہیں حضرت عمر۔
۲؎ یعنی حضرت ابوبکر و عمر سارے علیّین والوں سے افضل و اعلیٰ ہوں گے،جب یہ جنت کے نیچے درجوں میں جھانکیں گے تو ان درجوں میں ایسی چاندنی پھیل جاوے گی جیسے زمین پر چودھویں رات کے چاند سے پھیل جاتی ہے،ان کی شان ان شاءالله وہاں دیکھیں گے۔
|
6059 -[4] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ 6060 -[5]وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ابوبکر و عمر جنتی ادھیڑوں کے اگلے پچھلوں کے سردار ہیں ۱؎ سواء نبیوں اور رسولوں کے اور مرسلین کے۲؎ (ترمذی) اور ابن ماجہ نے حضرت علی سے روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع