30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی جب لوگ میدان محشر میں جمع تو کردیئے جائیں گے مگر کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوگا سخت گرمی سے کلیجے منہ کو آگئے ہوں گے،سب خاموش"فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا"تب حضور انور رب سے عرض کرکے حساب وکتاب شروع کرائیں گے،حضور کی شفاعت قیامت کے تمام کاموں کی کنجی ہوگی۔
۵؎ یہاں یاس سے مراد خوف کے باعث گویا بخشش سے مایوسی چھاجانا۔اول قیامت میں مؤمنوں کا یہ حال ہوگا تب حضور صلی الله علیہ وسلم ان کو رب کی طرف سے بخشش رحمت مغفرت کی خوشخبری دیں گے کہ مت گھبراؤ تم بخشے جاؤ گے،رب تم پر رحم فرمائے گا۔اس بشارت پر دھڑکتے دل ٹھہر جائیں گے،روتی آنکھیں خشک ہوجائیں گی،لبوں پر مسکراہٹ آجاوے گی مگر یہ بشارات مؤمنوں کے لیے ہوں گی۔
۶؎ یعنی نبیوں ولیوں کو عزت،گنہگاروں کو بخشش،سیہ کاروں کو معافی میرے ذریعہ سے ملے،الله تعالٰی کے لاکھوں خزانے ہیں ہر خزانہ میں کروڑوں رحمتیں ان سب خزانوں کی چابیاں حضور انور کے ہاتھ ہوں گی ؎
لا ورب البیت جو جس کو ملا ان سے ملا بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول الله کی
۷؎ اولاد آدم سے مراد سارے انسان ہیں جن میں حضرت آدم و حوا بھی داخل ہیں حضور ان سے بھی افضل ہیں اور جب سارے انسانوں سے حضور افضل ہیں تو باقی مخلوق فرشتے جن وغیرہ سے بھی افضل ہیں کہ انسان ان سب سے افضل ہے۔لہذا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم افضل الخلق ہیں۔رب نے مکہ معظمہ کی قسم اس لیے فرمائی کہ وہاں حضور جلوہ گر ہیں"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ "ان شاءاﷲ یہ تمام صفات قیامت میں سب آنکھوں سے دیکھیں گے جو یہاں بیان ہے وہاں عیاں ہوگا۔
۸؎ بیض جمع ہے بیضۃ کی بمعنی انڈا،اس سے شتر مرغ کے انڈے مراد ہیں۔مکنون کے معنی ہیں جسے گردوغبار نہ پہنچا اپنی اصلی صفائی پر ہوں۔عرب میں شتر مرغ کے انڈے کے رنگ کو بہت حسین سمجھتے تھے لہذا انہیں سمجھانے کے لیے یہ فرمایا یعنی سفیدی مائل بہ زردی اس لیے قرآن کریم نے حوروں کا حسن اسی طرح بیان فرمایا"کَاَنَّہُنَّ بَیۡضٌ مَّکْنُوۡنٌ"باقی دنیا میں جیسے حلب شام وغیرہ میں سفیدی مائل بہ سرخی کو پسند کیا جاتا ہے حضور انور کا حسن ایسا ہی تھا جیساکہ حلیہ شریف کے بیان میں آوے گا۔(مرقات)
۹؎ یہاں او فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ صرف عرب کو سمجھانے کے لیے ہے کہ یوں سمجھو جیسے شتر مرغ کے محفوظ انڈے یا یوں سمجھو جیسے درنا سفۃ۔خیال رہے کہ موتی جس میں سوراخ نہ کیا جائے اور اسے دھاگہ میں نہ پرویا جائے وہ زیادہ حسین معلوم ہوتا ہے سوراخ کیے ہوئے موتی کے مقابلہ میں کہ وہ اپنے سیپ والی حالت پر ہوتا ہے اس لیے ہر جگہ در منثور سے تشبیہ دی جاتی ہے یعنی بغیر پروئے ہوئے موتی ہیں بکھرے ہوئے،نیز وہ خادم حضور کے ہرطرف پھیلے ہوں گے لہذا انہیں بکھرے موتیوں سے تشبیہ دینا بہت ہی موزوں ہے۔یہ خدام یا تو قیامت ہی میں حضور کے گردوپیش ہوں گے یا جنت میں،اگر جنت میں ہیں تو علاوہ ان غلمانوں کے ہوں گے جو دوسرے جنتیوں کو عطا ہوں گے۔
|
5766 -[28] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَأُكْسَى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يقومُ ذلكَ المقامَ غَيْرِي». رَوَاهُ الترمذيُّ. وَفِي رِوَايَة«جَامع الْأُصُول» عَنهُ:«أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسَى» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا پھر مجھے جنتی جوڑا پہنایا جاوے گا ۱؎ پھر میں عرش کی داہنی طرف کھڑا ہوں گا ۲؎مخلوق میں میرے سوا کوئی نہیں جو اس جگہ کھڑا ہو۳؎ (ترمذی)اور جامع الاصول کی روایت میں ہے اور انہیں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس کی قبر کھلے گی پھر مجھے جوڑا پہنایا جاوے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع