30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یوم السبع یا تو ب سے ہے بمعنی درندہ،یوم السبع کے معنی درندوں والا دن۔اس سے کون سا دن مراد ہے اس میں بہت گفتگو ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد قرب قیامت وہ جنگ عظیم ہے جب کہ لوگ جنگ کی وجہ سے اپنے جانوروں سے غافل ہوجائیں گے اور بھیڑیئے ان کی بکریاں گائے خوب کھائیں گے،بعض نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا ایک میلہ ہوتا تھا جس میں لوگ شرکت کرنے کے لیے اپنے گاؤں خالی کرجاتے تھے،ان کے پیچھے درندے ان کے جانور آزادی سے کھاتے تھے،بعض نے فرمایا کہ یہ لفظ یوم السیع ہے ی سے بمعنی عہدوسیلہ تب بھی مطلب یہ ہی ہوگا۔فقیر کے نزدیک یہ دونوں مطلب قوی نہیں کیونکہ یہاں تو یہ ہے کہ اس دن بھیڑیئے کے سواء کوئی راعی چرواہا نہ ہوگا جس سے معلوم ہورہا ہے کہ بھیڑیئے بکریوں کی حفاظت کریں گے۔ شکار مراد لینا بعید لہذا غالبًا اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہےجب شیر اور بھیڑ ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اس دن بھیڑیئے گویا بکریوں کے چرواہے ہوجائیں گے۔
۳؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ اس واقعہ کو میں جانتا ہوں اور حضرت ابوبکروعمر کی طرف سے اس پر ایمان لاتا ہوں۔یہ واقعہ درست ہے جو مجھے بذریعہ وحی یا کشف معلوم ہوا جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
|
6057 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قد وضع مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُو بكر وَعمر».فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ میں ایک قوم میں کھڑا ہوا تھا کہ لوگوں نے جناب عمر کے لیے دعائیں کیں جب کہ وہ اپنے تختے پر رکھے گئے ۱؎ کہ ایک شخص میرے پیچھے سے جس نے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی کہنے لگا اﷲ تم پر رحمت کرے۲؎ میں امید کرتا ہوں کہ الله تم کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۳؎ کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو یہ فرماتے بہت سنا تھا کہ میں اور ابوبکر اور عمر وہاں تھے اور میں نے اور ابوبکر و عمر نے یہ کیا اور میں اور ابوبکر و عمر چلے اور میں ابوبکر و عمر داخل ہوئے اور میں ابوبکر و عمر نکلے میں نے مڑ کر دیکھا تووہ علی ابن ابی طالب تھے۴؎ (بخاری،مسلم) |
۱؎ یعنی شہادت کے بعد آپ کو غسل دینے کے لیے تختہ پر رکھا،چونکہ آپ کی شہادت فقہی نہ تھی کہ آپ زخم کھا کر کئی دن زندہ رہے اس لیے آپ کو غسل دیا گیا۔شہید فقہی کو نہ غسل دیا جاوے نہ کفن،شہید فقہی میں ایک قید یہ ہے کہ زخمی ہوتے ہی وفات ہوجاوے دیر نہ لگے۔
۲؎ حضرت علی رضی الله عنہ کا یہ خطاب حضرت عمررضی الله عنہ کی نعش مبارک سے تھا ان سے کہہ رہے تھے کہ الله تم پر رحمت کرے۔خیال رہے کہ الله کی رحمت گنہگاروں پر مغفرت کی ہے،نیک کاروں پر کرم نوازی کی،حضرات صحابہ پر قرب خصوصی کی یہاں خاص رحمت مرادہے،الله کی رحمت کے سب حاجت مند ہیں مگر جیسا محتاج ویسی اس کی رحمت۔اس سے معلوم ہوا بزرگان دین بعد وفات سنتے ہیں ان سے خطاب کلام درست ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع