30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب مناقب ابی بکر و عمر رضی اللہ عنھما
حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل ۱؎
۱؎ یعنی اس باب میں صرف وہ احادیث مذکور ہوں گی جن میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں کے فضائل یکجا ذکر ہیں اگرچہ دونوں حضرات یکجا ہی رہے تھے کہ دونوں حضور انور کے وزیر مشیر،صاحب راز،مقرب بارگاہ حضور کے ساتھی تھے حتی کہ یہ دونوں قبر میں بھی حضور کے ساتھ رہے۔(اشعہ)
|
6056 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَينا رجل يَسُوق بقرة إِذْ أعيي فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أومن بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عدا الذِّئْب فَذهب عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ الله ذِئْب يتَكَلَّم؟ ". قَالَ: أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " وَمَا هما ثمَّ. |
روایت حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا کہ ایک شخص گائے لیے جارہا تھا کہ تھک گیا تو اس پر سوار ہوگیا وہ بولی کہ ہم اس کام کے لیے نہیں پیدا کیے گئے ہم زمین کی کھیتی کے لیے پیدا کیے گئے۱؎ تو لوگ بولے سبحان الله گائے بول رہی ہے تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر میں اور ابوبکرو عمر ایمان لائے حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۲؎ اور فرمایا کہ جب کہ ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ ان میں سے ایک بکری پر بھیڑیئے نے حملہ کیا اسے لے گیا اسے بکری والے نے پکڑ لیا اس سے چھڑا لیا تو اس سے بھیڑیئے نے کہا کہ درندوں کے دن اس کا کون محافظ ہوگا جس دن میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا تو لوگ بولے سبحان الله بھیڑیا بول رہا ہے، حضور نے فرمایا کہ اس پر میں ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۳؎ (مسلم بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ گزشتہ زمانہ کا ہے شاید کسی اسرائیلی کا واقعہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بیل کی پیٹھ پر سوار ہونا اس پر بوجھ لادنا بہتر نہیں اسے کھیتی میں ہی استعمال کروکیونکہ حضور انور نے یہ واقعہ بغیر تردیدنقل فرمایا۔(مرقات، اشعہ) جانوروں کو مروّجہ کاموں میں ہی استعمال کرنا بہتر ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو ان دونوں حضرات کے ایمان پر بہت ہی اعتماد تھا کہ جس چیز کو ہم قبول فرمالیں اس کو وہ دونوں حضرات ضرور مان لیں گے بغیر تردد اور بغیر ہیر پھیر کیے،جانور کا انسان سے کلام کرنا عقل سے وراء ہے مگر میری تصدیق کی وجہ سے وہ دونوں مان لیں گے ان کے ایمان کا میں ذمہ دار ہوں یہ ہی ان بزرگوں کی عظمت ہے۔حضور کا ہاتھ شریف حضرت عثمان کا ہاتھ بنا،بیعۃ الرضوان میں اور آج حضور انور کا دل و دماغ اور حضور انور کی زبان شریف حضرت ابوبکر و عمر کے دل و دماغ و زبان بنے یہ ہے ان بزرگوں کی شان۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع